خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 338 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 338

338 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کیا ہوا ہے۔لیکن جیسا کہ گزشتہ سال تجربہ کیا گیا تھا اور اس سال کے دوران میں ایک عرصے سے جماعتوں کو بتایا جا رہا ہے اور مناسب بھی یہی ہے کہ اپنی گاڑیاں لانے کی بجائے لندن سے آلٹن تک جو ٹرین کا انتظام کیا گیا ہے اور یہ بڑا ستا انتظام ہے اس کو استعمال کریں۔سٹیشن تک لانے لے جانے کے لئے لندن مسجد میں بھی اور بیت الفتوح سے بھی بس کی مشٹل سروس کا انتظام کیا گیا ہے اور آلٹن سے حدیقہ المہدی لانے کے لئے بھی بسوں کا انتظام ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی خاطر جلسے میں شامل ہونے کا ارادہ کیا ہے تو بعض چھوٹی چھوٹی تکلیفوں اور دقتوں کو نظر انداز کرنا چاہئے۔بعض لوگ یہ باتیں بھی کر دیتے ہیں کہ جب چھوٹی سڑک تھی اور ٹریفک کی ہوتیں تھیں بارش کا خطرہ تھا تو یہ جگہ کیوں لی؟ تو آپ جلسے کے لئے جہاں بھی جگہ لیں گے اس وقت کا تو سامنا کرنا پڑے گا۔اس دقت کا سامنا اسلام آباد میں بھی کرنا پڑتا تھا حالانکہ وہاں جلسے میں شامل ہونے والوں کی تعداد اس وقت بہت تھوڑی تھی۔لیکن آہستہ آہستہ وہاں کی آبادی کو بھی اور احمدیوں کو بھی اس کی عادت پڑ گئی۔وہاں بھی ٹریفک کی وجہ سے ہمسایوں کو شروع میں جو اعتراض ہوتے تھے آہستہ آہستہ وہ ان کے عادی ہو گئے اور وہ اعتراضات دور ہو گئے تو یہاں بھی انشاء اللہ تعالیٰ وہ دور ہو جائیں گے۔لیکن ایک احمدی کا کام ہے کہ کسی بھی وجہ سے یہاں کی مقامی آبادی کے لئے تکلیف کا باعث نہ بنیں۔بلکہ ہر احمدی اپنا ایسا نمونہ دکھائے کہ اگر کسی کے دل میں احمدیوں کے بارے میں کوئی منفی سوچ ہے بھی تو وہ آپ کا رویہ دیکھ کر دل میں شرمندہ ہو اور احمدیوں کے متعلق اپنی منفی سوچ بدل کر مثبت سوچ پیدا کرے۔بلکہ دوستی کا ہاتھ بڑھائے اور ہمارے سے تعلق کو اپنے لئے عزت سمجھے۔ہراحمدی احمدیت کا سفیر ہے۔یہ ہر وقت ہر ایک کے ذہن میں رہنا چاہئے کہ آپ احمدیت کے سفیر ہیں۔اس بات کی توقع کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ ہمارے مرید ہو کر پھر ہمیں بدنام نہ کریں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد سوم صفحہ 184 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) مرید ہو کر پھر کون بدنام کر سکتا ہے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ تمہارے اخلاق ایسے اعلیٰ ہوں ، تم وہ پاک نمونہ دکھلانے والے ہو کہ ہر احمدی پر اٹھنے والی انگلی جماعت احمدیہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نیک نامی کا باعث بننے والی ہو۔جلسہ سالانہ کا اصل مقصد تو پاک تبدیلیاں پیدا کرنا تھا۔پس یہ پاک تبدیلیاں ہیں جو ایک احمدی کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ان دنوں میں جہاں آپ کی طرف سے عبادتوں سے اس کے اظہار ہور ہے ہوں۔وہاں اپنوں اور غیروں سے اعلیٰ اخلاق سے پیش آنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے۔بے شک میں نے کارکنان کو توجہ دلائی ہے کہ وہ ہر وقت مہمان نوازی پر مستعد رہیں اور کبھی کسی مہمان کو شکوے کا موقع نہ دیں۔لیکن مہمان کا بھی فرض ہے کہ وہ ہمیشہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرے، اپنے اندر صبر و حوصلہ پیدا کرے۔اگر کبھی کسی کارکن سے اونچ نیچ ہو جائے تو یاد رکھیں کہ وہ بھی انسان ہیں۔ان سے بھول چوک ہو سکتی ہے۔بعض کارکنان کئی کئی دنوں سے کام کر رہے ہیں۔بعض کو