خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 19
خطبات مسرور جلد ہفتم 19 خطبہ جمعہ فرموده 9 جنوری 2009 صرف دنیا پر نظر رکھنے والا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے کر اپنی عاقبت خراب کر رہا ہوتا ہے۔پس جنت اصل میں جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو گئی تو وہی ایک مومن کے لئے جنت ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ کے لئے اس کے حصول کی کوشش کی طرف متوجہ رکھے ہماری عبادتیں اور ہماری قربانیاں اللہ تعالیٰ کے فضل کو سمیٹنے والی ہوں۔اللہ تعالیٰ نے جہاں ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَآءُ ( الجمعه : 5) کہہ کر ہماری توجہ اس طرف پھیری کہ بے شک جنت ان لوگوں کے لئے ہے جن پر اللہ تعالیٰ اپنا خاص فضل فرماتا ہے اور وہ اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہیں اور جنہوں نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود کو مانا جن کا اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے مطابق ظہور ہوا۔تو و ہیں یہ بھی سمجھایا کہ اس فضل کو مستقل رکھنے کے لئے اپنے اعمال پر بھی نظر رکھنا۔اسی لئے دوسری جگہ یہ دعا بھی سکھائی کہ ایمان کی مضبوطی کے لئے اور اعمال پر قائم رہنے کے لئے یہ دعا بھی کرتے رہو کہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (آل عمران: 9)۔اب ایمان اور ہدایت کے بعد اے اللہ تو ہمارے دلوں کوٹیڑھا نہ کرنا۔کبھی ہمیں یہ خیال نہ آئے کہ ہم بڑی قربانیاں کرنے والے ہیں۔کبھی دنیا کی چمک دمک ہمیں راستے سے ہٹانے والی نہ بن جائے۔کبھی یہ خیال نہ آئے کہ جماعت کے متفرق چندے ہیں، ہمارے پر ایک بوجھ ہے۔ہمیشہ یہ سوچ رہے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس زمانے میں ہمیں اللہ تعالیٰ پہلوں سے ملاتے ہوئے اپنے دین کی خاطر قربانیوں کی توفیق دے رہا ہے۔یہ فضل عظیم جو ہم پر ہوا ہے اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ نسلاً بعد نسل قائم رکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور اخلاص کا کام ہے۔پس ضرور ہے کہ ہزار درہزار آدمی جو بیعت کرتے ہیں ان کو کہا جاوے کہ اپنے نفس پر کچھ مقرر کریں اور اس میں پھر غفلت نہ ہو۔(البدر جلد 2 نمبر 26۔مورخہ 17 جولائی 1903 ء صفحہ 202) آج گواللہ تعالیٰ کے فضل سے عمومی طور پر وہ احمدی جو اچھی طرح نظام جماعت میں پروئے گئے ہیں قربانیوں کی عظیم الشان مثالیں قائم کرتے ہیں، بعضوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔لیکن دنیا میں اکثر جگہ نئے شامل ہونے والوں میں سے، نو مبائعین کی مالی قربانی کی طرف توجہ نہیں اور ان کو شامل نہیں کیا گیا، کوشش نہیں کی گئی جس طرح کوشش کی جانی چاہئے تھی۔اور یہ بھی میرے نزدیک جماعتی نظام کی کمزوری ہے۔اگر نظام جماعت شروع دن سے کوشش کرتا تو کچھ نہ کچھ چاہے ٹوکن کے طور پر ہی لیں، قربانی کی عادت ڈالنی چاہئے تھی۔جہاں کوشش ہوئی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھے نتیجے نکلے ہیں۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے نئے آنے والوں پر ان کی کسی نیکی کی وجہ سے یہ فضل فرمایا کہ