خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 327 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 327

327 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کو نہیں دیکھتے کہ یہ تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو جاننے والا ہے۔ہمیں اس سے ایسی ایسی احادیث سنے کو ملتی ہیں جو ہم تم سے نہیں سنتے۔اس پر انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں۔انہوں نے رسول الله الا اللہ سے وہ باتیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسکین تھے ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے مہمان بن کر پڑے رہتے تھے۔ان کا ہاتھ رسول اللہ اللہ کے ہاتھ کے ساتھ ہوتا تھا۔ہم لوگ کئی کئی گھروں والے اور امیر لوگ تھے اور ہم رسول اللہ ہے کے پاس دن میں کبھی صبح کبھی شام آیا کرتے تھے۔( ترمذی کتاب المناقب۔مناقب ابی ہریرہ حدیث 3837 تو یہ تھا ان لوگوں کا طریقہ جنہوں نے ہم تک روایات پہنچائیں۔اب کوئی اس سے یہ خیال نہ کرے کہ یہ لوگ آپ کے اقوال سننے کے بہانے پڑے رہتے تھے ویسے لکھے تھے، فارغ روٹیاں تو ڑتے رہتے تھے۔ایسا نہیں بلکہ ان لوگوں پر بھی ایسے دن آئے جب ان کو فاقے برداشت کرنے پڑے اور ان پر فاقے اس لئے نہیں آتے تھے کہ آنحضرت یہ پوچھتے نہیں تھے۔یا ان سے تنگ آ جاتے تھے جیسا کہ پہلے ابھی روایت میں بیان ہوا ہے ، جب آپ نے گھر پیغام بھیجا کھانے کا تو پیغام آیا کہ ہمارے پاس تو سوائے پانی کے کچھ نہیں ہے تو آنحضرت ﷺ کے گھر میں بھی کئی کئی دن چولہا نہیں جلتا تھا۔اسی تعلق میں حضرت ابو ہریرہ کی ایک دلچسپ روایت ہے۔ایک دفعہ جب ایسی نوبت آئی۔کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ ابتدائی ایام میں بھوک کی وجہ سے میں اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا یا زمین سے لگا تا تا کہ کچھ سہارا ملے۔ایک دن میں ایسی جگہ پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگ گزرتے تھے۔میرے پاس سے حضرت ابوبکر گزرے ہمیں نے ان سے ایک آیت کا مطلب پوچھا۔میری غرض ی تھی کہ مجھے کھانا کھلا ئیں گے لیکن وہ آیت کا مطلب بیان کر کے گزر گئے۔پھر حضرت عمرؓ کا گزر ہوا میں نے ان سے بھی اس آیت کا مطلب پوچھا۔ان سے بھی غرض یہی تھی کہ کھانا کھلائیں گے۔وہ بھی آیت کا مطلب بتا کے گزر گئے۔پھر میرے پاس آنحضرت ہوتی ہیں گزرے تو آپ نے میری حالت دیکھ کر اور میرے دل کی کیفیت دیکھ کر بڑے مشفقانہ انداز میں فرمایا ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں آپ نے فرمایا میرے ساتھ آؤ۔آپ کے پیچھے پیچھے ہو لیا جب آ۔گھر پہنچے اور اندر جانے لگے تو میں نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی۔میں آپ کی اجازت سے اندر آ گیا۔آپ نے دودھ کا ایک پیالہ پایا۔آپ نے گھر والوں سے پوچھا کہ وہ دودھ کہاں سے آیا ہے۔گھر والوں نے بتایا کہ فلاں شخص یا فلاں عورت یہ دودھ کا پیالہ دے گئی ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا۔ابو ہریرہ !میں نے کہا یا رسول اللہ حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا سب صفہ میں رہنے والوں کو بلالا ؤ۔یہ لوگ اسلام کے مہمان تھے اور ان کا نہ کوئی گھر بار تھا نہ کاروبار۔جب حضور ﷺ کے پاس صدقے کا مال آتا تو ان کے پاس بھیج دیتے اور خود کچھ نہ کھاتے اور اگر کہیں سے