خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 322
خطبات مسرور جلد ہفتم 322 (29) خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2009 فرمودہ مورخہ 17 جولائی 2009 ء بمطابق 17 روفا 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مہمان نوازی ایک ایسا خلق ہے جس کا قرآن کریم میں بھی ذکر ہے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر میں دو جگہ آپ کی مہمان نوازی کا ذکر ہوا ہے اور اس ذکر میں پہلی بات تو یہ کہی گئی کہ جب آنے والے مہمان نے سلام کیا تو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی سلام کا جواب دیا۔گو اس کے سادہ معنی یہی ہیں کہ آنے والے نے بھی سلامتی بھیجی اور جواب میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی سلامتی بھیجی۔لیکن مفردات میں جو لغت کی کتاب ہے اس میں ایک فرق ظاہر کیا گیا ہے۔لکھتے ہیں کہ آنے والے نے سلاما کہا لیکن حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے جواب میں سلام کہا اور اس میں رفع یا پیش کا جو استعمال کیا گیا ہے یہ زیادہ بلیغ ہے۔گویا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس ادب کو محوظ رکھا جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے کہ وَإِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِاَحْسَنَ مِنْهَا (النساء: 87) اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو اُسے بہتر دعا سے جواب دو۔اور اس سلام کہنے سے یہ دعا بنتی ہے کہ تم پر ہمیشہ سلامتی رہے۔پس یہ نبی کے اخلاق اور دعا کا اعلیٰ معیار ہے جس کا آنے والے مہمان جو گوا جنبی تھے ان کو نہیں جانتے تھے ان پر فوری طور پر اس کا اظہار ہوا۔اور یہ مثال دے کر ہمیں بتایا گیا ہے کہ تم لوگ جو آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ہو تمہارے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے اور دعا دینے کے معیار ہمیشہ اس حکم کے تحت ہونے چاہئیں کہ ہمیشہ دوسرے سے بڑھ کر دعا دو۔وَإِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِاَحْسَنَ مِنْهَا تمہاری دعا اس سے بہتر دعا ہو جو تمہیں دی گئی ہے تا کہ مہمان کو یہ احساس ہو کہ میرے آنے سے میزبان کو خوشی ہوئی ہے۔اور دوسری بات یہ کہ کس طرح انہوں نے فوری طور پر مہمانوں کی مہمان نوازی کی تیاری شروع کر دی۔جس کا اللہ تعالیٰ نے یوں ذکر فرمایا ہے کہ فَرَاغَ إِلى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجُلٍ سَمِينِ (الذریت : 27) وہ جلدی سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لے آیا، یعنی پکا کر۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بِعِجُلٍ حَنِید (هود: 70 ) کہ ایک بھنا ہوا کچھڑا۔پس مہمان کی فوری خاطر مدارات کرنا اور اپنے وسائل کے لحاظ سے بہترین خاطر تواضع کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت پسندیدہ ہے تبھی تو تعریفی رنگ میں یہاں ذکر کیا گیا ہے۔حالانکہ یہ مضمون جو ان آیات میں اس سے