خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 320
320 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 2009 يُحببكُمُ الله کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ مقام ہماری جماعت کے لئے سوچنے کا مقام ہے کیونکہ اس میں خداوند قدیر فرماتا ہے کہ خدا کی محبت اسی سے وابستہ ہے کہ تم کامل طور پر پیر و ہو جاؤ اور تم میں ایک ذرہ مخالفت باقی نہ رہے اور اس جگہ جو میری نسبت کلام الہی میں رسول اور نبی کا لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ یہ رسول اور نبی اللہ ہے یہ اطلاق مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے کیونکہ جو شخص خدا سے براہ راست وحی پاتا ہے اور یقینی طور پر خدا اس سے مکالمہ کرتا ہے جیسا کہ نبیوں سے کیا، اُس پر رسول یا نبی کا لفظ بولنا غیر موزون نہیں ہے۔بلکہ یہ نہایت فصیح استعارہ ہے۔اسی وجہ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانی ایل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے۔وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا“۔اربعین نمبر 3 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 413۔حاشیہ ) اللہ تعالیٰ ہمارے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرے اور کہیں بھی ہم کسی قسم کی کمزوری دکھانے والے نہ ہوں۔رفع کے معنی کے سلسلہ میں ایک اور بات بھی پیش کرنا چاہتا ہوں کہ دَفَعَ صرف انبیاء کے ساتھ ہی مشروط نہیں ہے بلکہ مومنوں کا بھی رفع ہوتا ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” جب کہ ایک مومن سب باتوں پر خدا تعالیٰ کو مقدم کر لیتا ہے تب اس کا خدا کی طرف رفع ہوتا ہے۔وہ اسی زندگی میں خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا جاتا ہے اور ایک خاص نور سے منور کیا جاتا ہے۔اس رَفَعَ میں وہ شیطان کی زد سے ایسا بلند ہو جاتا ہے کہ پھر شیطان کا ہاتھ اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ہر ایک چیز کا خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی ایک نمونہ رکھا ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے کہ شیطان جب آسمان کی طرف چڑھنے لگتا ہے تو ایک شہاب ثاقب اس کے پیچھے پڑتا ہے۔جو اس کو نیچے گرا دیتا ہے۔ثاقب روشن ستارے کو کہتے ہیں اس چیز کو بھی ثاقب کہتے ہیں جو سوراخ کر دیتی ہے اور اس چیز کو بھی ثاقب کہتے ہیں جو بہت اونچی چلی جاتی ہو۔اس میں حالت انسانی کے واسطے ایک مثال بیان کی گئی ہے۔جو اپنے اندر ایک نہ صرف ظاہری بلکہ ایک مخفی حقیقت بھی رکھتی ہے۔جب ایک انسان کو خدا تعالیٰ پر پکا ایمان حاصل ہو جاتا ہے تو اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہو جاتا ہے اور اس کو ایک خاص قوت اور طاقت اور روشنی عطا کی جاتی ہے۔جس کے ذریعہ سے وہ شیطان کو نیچے گرا دیتا ہے۔ثاقب مارنے والے کو بھی کہتے ہیں۔ہر ایک مومن کے واسطے لازم ہے کہ وہ اپنے شیطان کو مارنے کی کوشش کرے اور اسے ہلاک کر ڈالے۔جولوگ روحانیت کی سائنس سے ناواقف ہیں وہ ایسی باتوں پر جنسی کرتے ہیں مگر دراصل وہ خود ہنسی کے لائق ہیں۔ایک قانون قدرت ظاہری ہے۔ایسا ہی ایک قانون قدرت باطنی بھی ہے۔ظاہری قانون باطنی کے واسطے بطور ایک نشان کے ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اپنی وحی میں فرمایا ہے کہ انتَ مِنِى بِمَنْزِلَةِ النَّجْمِ النَّاقِب یعنی تو مجھ سے بمنزلہ نجم ثاقب ہے۔اس کے یہ معنی ہیں کہ میں نے تجھے شیطان کے مارنے کے واسطے پیدا کیا ہے۔تیرے ہاتھ سے شیطان ہلاک ہو جائے