خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 290
290 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 جون 2009 ہے ، شریعت وہی ہے، لیکن اس کا حقیقی فہم و ادراک اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کو عطا فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ کا حقیقی خوف اور خشیت اور آنحضرت ﷺ سے عشق و محبت ہمارے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے پیدا فرمائی ہے اور اسے اجاگر کیا ہے۔پس اس کی جس انتہا تک قدر ہم کریں گے اور اس کے نتیجہ میں اپنے دلوں کو ٹٹولتے رہیں گے ہماری عبادتیں ہمیں فائدہ دیتی رہیں گی۔پس یہ ہر احمدی کی ذمہ داری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علم کلام کی جگالی بھی کرتا رہے۔جو پڑھ سکتے ہیں وہ پڑھیں۔جو سن سکتے ہیں وہ سنیں اور اس کے مطابق پھر اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کرتے رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیسیوں جگہ اس بات کی راہنمائی فرمائی ہے کہ عبادت کی حقیقت کیا ہے؟ اور قرآن کریم میں ابتداء میں ہی سورۃ فاتحہ میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ ایساكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتح: 5) - اس کا حقیقی مطلب کیا ہے؟ ہم روزانہ نماز میں پڑھتے ہیں اور گزر جاتے ہیں اس کو پڑھ کر۔لیکن اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر سے دیکھیں تو حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ ايَّاكَ نَعْبُدُ میں ایک اور اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے بندوں کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ اس کی اطاعت میں انتہائی ہمت اور کوشش خرچ کریں اور اطاعت گزاروں کی طرح ہر وقت لبیک لبیک کہتے ہوئے اس کے حضور کھڑے رہیں۔گویا کہ یہ بندے یہ کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم مجاہدات کرنے ، تیرے احکام کے بجالانے اور تیری خوشنودی چاہنے میں کوئی کوتا ہی نہیں کر رہے، لیکن تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور عجب اور ریاء میں مبتلا ہونے سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ہمارا کوئی عمل ایسا نہ ہو جو صرف دکھانے کے لئے ہو اور ہم تجھ سے ہی ایسی توفیق طلب کرتے ہیں جو ہدایت اور تیری خوشنودی کی طرف لے جانے والی ہو اور ہم تیری اطاعت اور تیری عبادت پر ثابت قدم ہیں۔پس تو ہمیں اپنے اطاعت گزار بندوں میں لکھ لے۔فرمایا اور یہاں ایک اور اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ بندہ کہتا ہے کہ اے میرے رب ہم نے تجھے معبودیت کے ساتھ مخصوص کر رکھا ہے اور تیرے سوا جو کچھ بھی ہے اس پر تجھے ترجیح دی ہے۔پس ہم تیری ذات کے سوا اور کسی چیز کی عبادت نہیں کرتے اور ہم تجھے واحد اور یگانہ ماننے والوں میں سے ہیں۔فرمایا۔” یہ دعا تمام بھائیوں کے لئے ہے نہ صرف دعا کرنے والے کی اپنی ذات کے لئے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو باہمی مصالحت، اتحاد اور دوستی کی ترغیب دی ہے اور یہ کہ دعا کرنے والا اپنے آپ کو ، اپنے بھائی کی خیر خواہی کے لئے اسی طرح مشقت میں ڈالے جیسا کہ وہ اپنی ذات کی خیر خواہی کے لئے اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے۔اور اس کی (یعنی اپنے بھائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ایسا ہی اہتمام کرے اور بے چین ہو جیسے اپنے لئے بے چین اور مضطرب ہوتا ہے اور وہ اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کوئی فرق نہ کرے اور پورے دل سے اس کا خیر خواہ بن