خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 289 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 289

289 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 جون 2009 خطبات مسرور جلد هفتم لوگ جو دنیاوی تعلیم سے آراستہ ہیں اور دنیاوی کاموں میں مصروف ہیں لیکن دین کے لئے اور خلافت سے تعلق کے لئے مکمل اخلاص و وفا دکھانے والے ہیں۔اور یہ سب اس لئے ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے تعلق کے طریق ہمیں سکھائے۔ہماری عبادتیں بھی خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتی ہیں اور ہونی چاہئیں۔جو ہمیں ہماری ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلاتی ہیں اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلاتی ہیں۔لیکن دوسرے مسلمان اس سے محروم ہیں۔گزشتہ دنوں ایک غیر از جماعت دوست ملنے کے لئے آئے۔بڑے پڑھے لکھے طبقہ کے ہیں اور میڈیا میں بھی معروف مقام رکھتے ہیں۔کہنے لگے کہ کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں خاص طور پر مساجد آج کل اس طرح آباد ہیں جو گزشتہ 62 سال میں دیکھنے میں نہیں آئیں۔حج پر جانے والے ہمیں اتنی تعداد میں نظر آتے ہیں جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آتے۔پھر اور کئی نیکیاں انہوں نے گنوا ئیں۔پھر کہنے لگے کہ کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود وہ اثرات اور وہ نتائج نظر نہیں آتے جو ہونے چاہئیں۔پھر خود ہی انہوں نے کہا کہ مسجد کے باہر کے معاملات اصل میں صاف نہیں ہیں اور یہ اس لئے کہ دل صاف نہیں ہیں۔مسجد سے باہر نکلتے ہی معاملات میں ایک قسم کی کدورت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔میں نے انہیں کہا کہ ایک بات تو یہ ہمیں یاد رکھنی چاہئے کہ ہماری عبادتیں ، ہماری نماز میں ، ہماری دوسری نیکیاں تبھی فائدہ مند ہو سکتی ہیں جب ہمارے جائزے بھی ہوں اپنے خود کے۔اس بات پر خوش ہو جانا کہ ہم عبادت کر رہے ہیں یا ہم اپنے آپ پر اسلامی رنگ کا اظہار کر رہے ہیں۔ہمارے حلیے سے ہماری حالتوں سے اسلامی رنگ کا اظہار ہوتا ہے تو یہ تو کوئی نیکی نہیں ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک فقرہ مجھے یاد آیا میں نے انہیں بتایا کہ یہ لوگوں کا کام بے شک ہے کہ تمہارے اعمال کو وہ دیکھیں۔لیکن تمہارا یہ کام ہے کہ ہمیشہ اپنے دل کا مطالعہ کرو۔پس اگر لوگ یہ کہتے ہیں کہ بڑا نمازی ہے بڑا روزہ دار ہے ، بڑا حاجی ہے، اس سے نیکیاں پیدا نہیں ہو جاتیں ان چیزوں سے۔نیکی کی اصل روح تب پیدا ہوتی ہے جب یہ احساس ہو کہ کیا یہ سب کام میں نے خدا کی خاطر کئے ہیں؟ اور اس کے لئے اپنے دل کے جائزہ کی ضرورت ہے اور جب یہ جائزے ہوں گے تو ان نیکیوں کے حقیقی اثرات جو ہیں وہ ظاہر ہورہے ہوں گے۔دوسری بات میں نے انہیں یہ کہی کہ آپ لوگ نہیں مانیں گے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس زمانہ کے امام کو مانے بغیران نیکیوں کی جو آپ گنوار ہے ہیں صحیح سمت نہیں رہ سکتی۔صحیح رخ نہیں رہ سکتے۔شیطان کا اثر ہر نیکی کو بھی بدنتائج پر منتج کر دیتا ہے۔تو میں نے انہیں بتایا کہ معاملات صاف نہ ہونے یا دل صاف نہ ہونے یا فتنہ وفساد کی یہ وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانے بغیر اور آپ کے بعد خلافت کو مانے بغیر قبلے درست نہیں ہو سکتے۔تو حقیقت یہی ہے کہ عبادتوں کے اسلوب بھی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی سکھائے۔قرآن وہی