خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 281
خطبات مسرور جلد ہفتم 281 خطبه جمعه فرموده 19 جون 2009 دل۔” اور تعلقات ماسوا اللہ سے بکلی پاک ہے یعنی آپ کا دل ہر چیز سے پاک ہے اور وہی ایسا ہے جو اتنا صاف اور پاک ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں یوں ڈوبا ہوا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کی محبت کے اس میں سے کچھ نظر ہی نہیں آتا اور یہی اس بات کا حقدار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی اس دل میں اترتی اور جب وحی الہی اس روشن اور صاف دل میں اتری تو اس کی روشنی اور چمک یوں دنیا کو روشن کرنے والی بنی جیسے چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے جو د یکھنے والے تھے جن کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا تھا ان کو وہ روشنی نظر آئی۔پھر اللہ تعالیٰ نے مثال بیان فرمائی کہ زیتون کے شجرہ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے ( یعنی زیتون کے روغن سے ) تو آپ فرماتے ہیں کہ ” ( شجرہ مبارکہ زیتون سے مراد وجود مبارک محمدی ہے ، آنحضرت ﷺ کا مبارک وجود ہے اس درخت سے مراد کہ جو بوجہ نہایت جامعیت و کمال انواع و اقسام کی برکتوں کا مجموعہ ہے وہ مختلف قسم کی برکتوں کا مجموعہ ہے۔اس لئے کہ وہ تمام کمالات کا جامع ہے۔ہر قسم کا کمال اس میں جمع ہوا ہوا ہے۔جس کا فیض کسی جہت و مکان و زمان سے مخصوص نہیں۔کسی خاص طرف اس کا فیض نہیں جا رہا۔کسی خاص جگہ پر اس کا فیض نہیں ہے کسی خاص زمانے کے لئے اس کا فیض نہیں ہے۔بلکہ تمام جگہوں پر، تمام طرفوں میں، تمام مکانوں میں اور تمام زمانوں کے لئے تا قیامت یہ فیض جاری رہے گا۔بلکہ تمام لوگوں کے لئے عام علی سبیل الدوام ہے اور ہمیشہ جاری ہے کبھی منقطع نہیں ہوگا۔‘، پس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس راستے پر چلا جائے جہاں سے یہ فیض جاری فیض ، جو ہے ہمیشہ ملتا ہے اور وہ راستہ آپ کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی ہے اور احکامات کی تعمیل ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ جو فرمایا کہ اس شجرہ مبارکہ کے روغن سے چراغ وحی 66 روشن کیا گیا ہے سو روغن یعنی تیل جو ہے، اس سے مراد عقل لطیف نورانی محمدی مع جمیع اخلاق فاضلہ فطرتیہ ہے۔یہ تیل جو ہے وہ آنحضرت میلہ کا وہ اعلیٰ مقام ہے اس عقل کا جو نور سے بھرا ہوا ہے۔جس میں تمام اخلاق فاضلہ ہیں اور وہ فطرت میں رکھے گئے ہیں آپ کے ذہن اور دماغ میں۔جو اُس عقل کامل کے چشمہ صافی سے پروردہ ہیں۔پس آپ ﷺ کی ذہنی صلاحیتیں اور آپ کے اخلاق فاضلہ اس بات کے حقدار ٹھہرے کہ اس تیل کا کردار ادا کریں جو چراغ کو جلانے کے لئے کام آتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ شجرہ مبارکہ نہ شرقی ہے نہ غربی تو اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرماتے ہیں کہ " ( یعنی طینت پاک محمدی میں نہ افراط ہے نہ تفریط ایسی طبیعت ہے آپ کی ، ایسی فطرت ہے اس میں نہ افراط ہے نہ تفریط ہے۔بلکہ نہایت توسط و اعتدال پر واقع ہے اور احسن تقویم پر مخلوق ہے۔ایک انتہائی اعلیٰ شکل کی بناوٹ ہے اس کی۔آنحضرت ﷺ کی فطرت تو پہلے ہی نیک تھی اور بیلنس (Balance) تھی اور آپ کی وحی کے ہونے سے پہلے کی جو تاریخ ہے ہمیں بتاتی ہے کہ کس طرح آپ ہمیشہ انصاف پر چلنے والے اور صحیح