خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 280 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 280

280 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 19 جون 2009 رکھنے والی آنحضرت ﷺ کی ذات ہے جو تمام قسم کی برکات کا مجموعہ ہے۔دوسروں پر ہرگز نہیں ہوتا اور چونکہ وہ فیضان ایک نہایت بار یک صداقت ہے ایک ایسی سچائی ہے۔جو بہت غور کرنے سے نظر آتی ہے۔جو فیض ہے یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فیض اور دقائق حکمیہ میں سے ایک دقیق مسئلہ ہے۔“ اور حکمت کی جو باریکیاں ہیں ان میں سے ایک بڑا باریک مسئلہ ہے یہ۔یہ ہر ایک کو نظر نہیں آسکتا۔اس لئے خداوند تعالیٰ نے اول فیضانِ عام کو جو ظاہر میں ظاہر ہو رہا ہے بیان کر کے یعنی اللہ تعالیٰ تمام زمین و آسمان کا نور ہے اس کو بیان کر کے پھر فرمایا ہے، پھر اس فیضانِ خاص کو بغرض اظہار کیفیت نور حضرت خاتم الانبیاء ﷺ ایک مثال میں بیان فرمایا ہے۔پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنا نور بیان فرمایا کہ اللہ زمین و آسمان کا نور ہے اور کوئی چیز اس سے باہر نہیں۔وہی ہر چیز کی پیدائش ہے اور وہی ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔پھر اس خاص نور کی طرف اشارہ فرمایا اور اس کی مثال ایک دی جو خاص نور کی انتہاء ہے وہ آ نحضر نہ کی ذات میں ہے ”جو اس آیت سے شروع ہوتی ہے۔آیت کے اس حصہ سے کہ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاح “ یعنی ” اس نور کی مثال ( فرد کامل میں جو پیغمبر ہے ) یہ ہے جیسے ایک طاق یعنی ایک خانہ بنا ہوتا ہے جو دیوار پر۔ایسی جگہ جو دیوار میں خاص روشنی کے لئے یا چیزیں رکھنے کے لئے بنائی جاتی ہے۔عموما روشنی کے لئے بنائی جائے اس کو طاق کہتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ وہ طاق آنحضرت ﷺ کا وسیع تر سینہ ہے اور اس طاق میں، یہ ایک مثال بیان ہو رہی ہے ، اور طاق میں ایک چراغ ایک روشنی کا لیمپ ہے اور یہ چراغ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے اور یہ جوفرمایا کہ وہ چراغ شیشے کے شمع دان میں ہے تو شمع دان میں جب چراغ رکھا ہو اس کی ایک مثال اس لئے دی ہے ، شیشے کے چراغ میں کہ جب شمع دان میں چراغ رکھا ہو تو آندھیوں وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے۔جب ایک گلوب میں روشنی ہوتی ہے کوئی بھی شعلہ تو ایک تو محفوظ رہتی ہے وہ باہر کی ہواؤں سے موسمی اثرات سے دوسرے روشنی بڑھ جاتی ہے اس کی۔جیسا کہ عام آدمی بھی جانتے ہیں ہمارے تیسری دنیا میں تو ہر جگہ مٹی کے تیل کی لالٹینیں استعمال کی جاتی ہیں، غریب ملکوں میں۔تو اس شیشہ کے گلوب کی وجہ سے، وہی شعلہ اگر ویسے ہوا میں رکھا جائے تو بجھ جائے اسی کو لائین میں جب استعمال کر کے اور اس کے اوپر چھنی چڑھا دی جاتی ہے یا گلوب چڑھا دیا جاتا ہے تو شعلہ محفوظ ہو جاتا ہے اور آندھیوں میں بھی لوگ لے کے پھر رہے ہوتے ہیں ، جہاں جدید قسم کی ٹارچھیں وغیرہ نہیں ہوتیں اور جہاں لیمپ یا ٹارچ کا سوال پیدا ہو وہاں بھی جب اس کے اوپر شیشہ چڑھایا جائے ، گلوب چڑھایا جائے، فلیکٹر (Reflecter) چڑھایا جائے تو روشنی مزید پھیلتی ہے۔تو بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وہ چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں جو نہایت مصفی ہے ( یعنی نہایت پاک اور مقدس دل میں جو آنحضرت والے کا دل ہے جو کہ اپنی اصل فطرت میں شیعہ سفید اور اور صافی کی طرح ہر یک طور کی کثافت اور کدورت سے منزہ اور مطہر ہے ہر چیز سے ہر گند سے پاک ہے آنحضرت ﷺ کا