خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 277 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 277

277 خطبه جمعه فرموده 19 جون 2009 خطبات مسرور جلد هفتم جو اعمال بجالانے والے لوگ ہیں ، نیک لوگ ہیں ، مومن لوگ ہیں، ان کا اعمال صالحہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے اور انبیاء کا اس میں بہت بڑا مقام ہے پھر آپ نے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ ضرورت ہے اعمال صالحہ کی۔خدا تعالیٰ کے حضور اگر کوئی چیز جاسکتی ہے تو وہ یہی اعمال صالحہ ہیں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 114 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے اعمال صالحہ کی ضرورت ہے اور اگلے جہاں میں بھی ایک انسان کی اگر اس کے ایمان میں پختگی ہے یہی خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے معیاروں کو حاصل کرے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہی اصول مقرر فرمایا ہے کہ اعمال صالحہ بجالا ؤ۔پس اس آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جس طرح عرب کے جہالت اور برائیوں میں پڑے ہوئے لوگوں کو کہا جاتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے زیر اثر آ کر نہ صرف تم اپنی برائیاں دور کرو گے بلکہ نیکی، تقویٰ، عزت اور وقار کے اعلیٰ ترین معیار حاصل کرو گے۔اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جو قو میں آج تمہیں تخفیف کی نظر سے دیکھتی ہیں تمہیں جاہل اور بدو سمجھتی ہیں، وہ ایک وقت میں تمہارے سامنے جھکنے والی ہو جائیں گی۔لیکن یہ سب عزت اور بڑائی ان لوگوں کے خالص ایمان کی وجہ سے ہو گی ، اعلیٰ اخلاقی قدروں کے نتیجہ میں ہوگی اور نیک اعمال بجالانے کے نتیجہ میں ہوگی۔پس اس چیز کے حصول کے لئے کوشش کرو اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ایک دنیا انہی جاہلوں یا جاہل کہلانے والوں کے زیر نگیں اللہ تعالیٰ نے کر دی اور یہ بات قرآن کریم میں محفوظ فرما کر اللہ تعالیٰ نے آئندہ آنے والے مسلمانوں کے لئے بھی راستے متعین کر دیئے کہ اس اصول کو اپناؤ گے تو اپنا مقام حاصل کرو گے۔لیکن بدقسمتی سے یہ نیکیاں اپنانے کی بجائے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں حکم دیا۔ہے دنیا کی ہوا و ہوس کے پیچھے مسلمان پڑگئے ہیں۔اور نتیجہ اسلاف کی جو میراث تھی وہ کھو بیٹھے ہیں۔خدا کے نام پر مسلمان ، مسلمان کے خون کا پیاسا ہورہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج جو غیر ہیں، غیر مسلم ہیں وہ مسلمانوں پر حکمران بنے ہوئے ہیں۔اپنے مسائل حل کرنے کے لئے مسلمان حکومتیں مغرب کی طرف دیکھتی ہیں، غیروں کی طرف دیکھتی ہیں۔کسی مسلمان ملک کے اندرونی معاملات ہیں اور وہاں بدامنی اور بے چینی ہے قتل وغارت ہو رہی ہے۔تو بجائے مسلمان ملکوں کے کہ انہیں سمجھا ئیں امریکہ اور یورپ ان معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں ان کے ٹھیک کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے بلکہ زبردستی کرتے ہیں۔اور پھر کیونکہ یہ غیر مسلم حکومتیں ہیں اس لئے انتہائی ہتک آمیز سلوک پھر ان کے کارندے مسلمانوں سے کرتے ہیں۔پھر مسلمانوں کی طرف سے ایک شور اٹھتا ہے۔غرض اسلام کی حقیقی تعلیم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے بلندیوں میں جانے کی بجائے پستیوں کی طرف مسلمان آج کل گر رہے ہیں۔