خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 276
خطبات مسرور جلد ہفتم 276 (25) خطبه جمعه فرموده 19 جون 2009 فرمودہ مورخہ 19 جون 2009ء بمطابق 19 احسان 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک نام رافِع ہے۔یعنی وہ ذات جو مومن کو بلند مقام عطا فرماتی ہے اور بلند مقام کس طرح ملتا ہے؟ یہ ایک مومن کو اس کے نیک اعمال بجالانے اور اس کے لئے کوشش اور جد و جہد کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملتا ہے۔اور بعض اوقات اللہ محض اور محض اپنے فضل سے انسان کو بلند مقام عطا فرما دیتا ہے اور اس طرح فضل فرماتا ہے کہ جس کے بارے میں انسان بعض دفعہ تصور بھی نہیں کر سکتا اور جو اس کے اولیاء اور خاص بندے ہوتے ہیں ان کو مزید اپنے قریب کر کے ایک خاص قرب کا مقام دے کر مزید بلندیاں عطا فرماتا ہے اور بعض کو انبیاء کا درجہ دے کر اپنی خاص تعلیم کے ذریعہ سے بلند مقام عطا فرماتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (فاطر: 11) اسی کی طرف پاک کلمہ بلند ہوتا ہے اور اسے نیک عمل بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔اس آیت کے جس کا میں نے تھوڑا سا حصہ ہی پڑھا ہے لیکن اس کے بھی اس حصہ کا کہ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ اس ضمن میں لین ایک لغت کی کتاب ہے جس نے بہت سی لغات سے مطالب اکٹھے کئے ہوئے ہیں۔اس میں لکھا ہے کہ نیک اعمال کو وہ قبول کرے گا۔یا اس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ نیک عمل تعریف کا موجب بنتے ہیں۔یا نیک عمل ہی اعلیٰ مقام کے حصول کا ذریعہ ہے اور نیک عمل کے بغیر انسان کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔پس اللہ تعالیٰ رافع ہے لیکن ساتھ ہی قادر بھی ہے وہ جس طرح چاہے کسی کو بلند مقام عطا فرما سکتا ہے۔یا انعام سے نواز سکتا ہے۔لیکن اس نے یہ عمومی طور پر یہ اصول مقرر فرما دیا کہ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ اور نیک عمل بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ اعمال صالحہ کی طاقت سے ان کا خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 334)