خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 259
259 خطبه جمعه فرموده 5 جون 2009 خطبات مسرور جلد هفتم کی ضرورت نہیں۔اس کی استعداد میں انسانی استعدادوں کی طرح نہیں ہیں جنہیں ایک وقت میں آرام اور نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔بلکہ وہ تو تمام قدرتوں کا مالک خدا ہے۔اس لئے نہ ہی اسے نیند کی ضرورت ہے نہ ہی تھکاوٹ کی وجہ سے اسے اونگھ آتی ہے۔اس لئے سوال ہی نہیں کہ وہ اپنے بندوں کی زندگی اور بقا سے کبھی غافل ہو۔ہاں قانون قدرت کے تحت اور اس کی دوسری صفات کے تحت وہ اپنے بندوں کو امتحانوں اور آزمائشوں میں ڈالتا ہے۔لیکن یہ بھی اس کا اعلان ہے کہ حقیقی زندگی اس کے بندوں کی ہی ہے۔اُس کے راستے میں مرنے والے بھی ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور جب اس نے یہ اعلان فرمایا کہ میرے نبی کی جماعت ہی زندہ اور غالب رہنے والی ہے تو اس بات کو بھی پورا کر کے دکھایا کہ وہ زندہ رہتی ہے اور غالب رہتی ہے۔پھر فرمایا لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ اسی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔اس بات پر بھی کسی کو شبہ اور شک نہیں ہونا چاہئے کہ اگر چہ اللہ تعالیٰ نے کہا تو یہی ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔لیکن یہ کس طرح ہوگا ، کیونکہ اگر دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے اور وسائل کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ غلبہ مشکل نظر آتا ہے یا بڑی دُور کی بات نظر آتی ہے۔لیکن جب آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِي (المجادلة : 22) تو با وجود نا مساعد حالات کے اسے سچ کر دکھایا۔اسی طرح جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے تو اب بھی سچ کر دکھائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دکھا بھی رہا ہے۔گو انسان سوچتا ہے کہ کس طرح اور کیونکر بظاہر اسباب اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے غلبہ ہوگا۔یا ہوگا بھی تو بہت دور کی بات ہے۔اور مکمل کامیابی بہت دور کی چیز نظر آتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ خدا تعالیٰ کے تصرف اور قبضے میں ہے۔یہ زمین اور آسمان بغیر مالک کے نہیں ہیں دنیا میں رہنے والی ساری مخلوق اُسی کے قبضہ قدرت میں ہے اور وہ لامحدود اور وسیع تر طاقتوں کا مالک ہے اور وہ ہمیشہ دنیا پر نظر رکھے ہوئے ہے۔زندگی اور موت، فنا اور بقا، اسی کے ہاتھ میں ہے۔زمین کے تمام خزانے ، ظاہری اور مخفی خزانے اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔پس جب اس طاقت نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ میرے رسول کی جماعت غالب آئے گی تو دنیا کی کوئی طاقت اس فیصلہ پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔چاہے وہ بڑی طاقتیں ہوں یا دنیاوی حکومتیں ہوں یا نام نہاد دین کے علمبر دار ہوں۔خدا تعالیٰ کے فیصلہ نے یقینا اور لاز مالا گو ہونا ہے۔لیکن مومنوں کو شروع میں ہی یہ واضح کر دیا کہ یہ غلبہ اور یہ دائمی زندگی اور بقا یقینا ان لوگوں کو ملے گی جو تمام صفات کے جامع خدا پر یقین رکھتے ہوں اور اس کی عبادت کرنے والے ہوں۔پس آج ہر ایک احمدی کی یہ ذمہ داری ہے جسے سمجھنا ہر ایک احمدی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔پھر فرمایا کہ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ۔کون ہے جو اس کے حضور سفارش کرے مگر اس کے اذن کے ساتھ۔پس اللہ تعالیٰ کے حضور کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی مگر صرف اسے جسے اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا یا اذن دے گا۔اور احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا اذن ہو گا تو آپ سفارش کریں گے۔