خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 255 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 255

255 خطبه جمعه فرموده 5 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم حال سامنے آئے ، یہ عہد کرے کہ آئندہ سے یہ پاک تبدیلیاں میں اپنے اندر پیدا کروں گا۔پھر یہ چیز ہے جو شیطان سے دُور کرتی ہے۔جن دس آیتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے چار آیات جو ہیں وہ سورۃ البقرہ کی پہلی چار آیات ہیں۔جن میں ایک مومن کی پاکیزہ عملی زندگی کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا ایک آیت ، آیت الکرسی ہے اور اس کے ساتھ کی دو آیات ہیں جن میں صفات باری کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔پھر سورۃ البقرہ کی آخری تین آیات ہیں جن میں سے آخری آیت کی وضاحت میں نے گزشتہ جمعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کی روشنی میں کی تھی۔گو اس وقت مضمون تو آیت الکرسی کا ہی بیان ہو گا لیکن اس سے پہلے سورۃ بقرہ کی پہلی چار آیات میں سے الم۔ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو تفسیر بیان فرمائی ہے اس کا ایک اقتباس میں پڑھوں گا۔جو اللہ تعالیٰ کے پاک کلام قرآن کریم کی وسعتوں کی طرف ، اس کو سمجھنے کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے۔اور اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے قرآن کریم کو مجھنا آسان بھی ہے اور انسان صحیح طرح سمجھ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” جب تک کسی کتاب کے علل اربعہ کامل نہ ہوں۔وہ کامل کتاب نہیں کہلا سکتی، علل اربعہ کا مطلب ہے کہ چار بنیادی خصوصیات۔اگر یہ چار بنیادی صفات کامل ہوں تب ہی وہ کتاب کامل کہلا سکتی ہے۔آپ فرماتے ہیں : ” اس لئے خدا تعالیٰ نے ان آیات میں قرآن شریف کے عمل اربعہ کا ذکر فرما دیا ہے اور وہ چار ہیں۔(1) علت فاعلی ، (2) علت مادی ، (3) علت صوری اور (4) علت غائی“۔فرمایا کہ ” ہر چہار کامل درجہ پر ہیں۔پس الم علت فاعلی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے معنی ہیں کہ انا اللهُ أَعْلَمُ۔یعنی کہ میں جو خدائے عالم الغیب ہوں میں نے اس کتاب کو اتارا ہے۔پس چونکہ خدا اس کتاب کی علت فاعلی ہے اس لئے اس کتاب کا فاعل ہر ایک فائل سے زبر دست اور کامل ہے“۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 136 - حاشیہ) پس قرآن کریم کے کامل کتاب ہونے کی سند اور غیروں کو چیلنج ابتدا میں ہی ان تین حروف میں خدا تعالیٰ نے دے دیا۔اس پر ایمان لانے والوں کو کسی بھی قسم کا خوف اور احساس کمتری نہیں ہونا چاہئے۔کسی قسم کے خوف اور احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ اس خدا کا کلام ہے جس کے کاموں کی کنہ تک بھی انسان نہیں پہنچ سکتا اور کھلا چیلنج ہے کہ قرآن کریم کی ایک سورۃ جیسی سورۃ لے کے آؤ اور اپنے ساتھ تمام مددگاروں کو ملا لو تو بھی تمام مددگاروں سمیت نہیں لا سکتے۔بہر حال اس بات کی تفصیل میں تو میں نہیں جا رہا۔مختصر یہ کہ قرآن کریم کامل کتاب اس لئے ہے کہ اس کو اتارنے والا کامل اور سب قدرتوں اور طاقتوں کا مالک اور عالم الغیب خدا ہے۔