خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 249
249 خطبہ جمعہ فرموده 29 مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم حکم ہے خدا تعالیٰ کے احکامات جو ہیں جو انسانی فائدے کے لئے ہیں اس کی صحت اور اس میں ڈسپلن پیدا کرنے کے لئے ہیں علاوہ عبادت کے۔جن کے نہ کرنے کا حکم ہے وہ بھی فائدے کی چیزیں ہیں جن کے کرنے کا حکم ہے وہ بھی بڑی حکمت لئے ہوئے ہیں اور انسان کی بقا کے لئے ضروری ہیں۔تو غرض اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں حکمت ہے اور بغیر حکمت بیان کئے اللہ تعالیٰ کسی کو یہ نہیں کہتا کہ تم اس کام کو کر دیا نہ کرو۔چھٹی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قومی کی برداشت اور حوصلہ سے بڑھ کر کسی قسم کی شرعی تکلیف نہیں اٹھوائی کسی کو۔مثلاً فرمایا کہ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ۔فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ | بَاغِ وَّلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( البقرة:174 ) کہ اُس نے تم پر صرف مردار ، خون ، سور کے گوشت کو اور ان چیزوں کو جن کو اللہ کے سوا کسی اور سے نامزد کر دیا گیا ہو، حرام کیا ہے ، مگر جو شخص ان اشیاء کے استعمال پر مجبور ہو جائے اور نہ تو وہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حدود سے آگے نکلنے والا ہو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔اللہ یقینا بڑا بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اب یہ حکم ہے جو عقل کے مطابق ہے، حکمت لئے ہوئے ہے اور انسانی قومی کی برداشت کے لحاظ سے بھی انتہائی اعلیٰ درجہ کا ہے کہ اگر جان کا خطرہ ہے تو ان حرام چیزوں کا استعمال کر تو سکتے ہو مگر صرف جسم کی بقا کے لئے صرف سانس کا رشتہ قائم رکھنے کے لئے۔لیکن کوشش کرو کہ حتی الوسع ان سے بچو اور جہاں تک ہو سکے حرام اور حلال کے فرق کو قائم رکھو۔پھر ساتویں بات یہ یا در کھنے والی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام انسانی طاقت کے اندر ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اس آیت سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام ایسے نہیں جن کی بجا آوری کوئی کر ہی نہ سکے اور نہ شرائع و احکام خدا تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے نازل کیسے کہ اپنی بڑی فصاحت و بلاغت اور ایجادی قانونی طاقت اور چیستان طرازی کا فخر انسان پر ظاہر کرے، یعنی بتائے کہ میرے میں سب طاقتیں ہیں اور کوئی اس قسم کا معمہ پیش کرے جس کو کوئی حل نہ کر سکتا ہو اور پھر بڑے فخر سے کہے کہ دیکھو میری بات تم سمجھ نہیں سکے۔یہ نہیں ہے۔فرمایا کہ نہ شرائع و احکام خدا تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے نازل کیسے کہ اپنی بڑی فصاحت و بلاغت اور ایجادی قانونی طاقت اور چیستان طرازی کا فخر انسان پر ظاہر کرے اور یوں پہلے ہی سے اپنی جگہ ٹھان رکھا تھا کہ کہاں بیہودہ ضعیف انسان اور کہاں کا ان حکموں پر عملدرآمد ؟ تو اللہ تعالیٰ نے کسی مشکل میں ڈالنے کے لئے حکم نہیں دیئے تھے۔دیکھے کہ کس طرح میں آزماؤں اپنے بندوں کو کہ یہ بیہودہ انسان اور کمزور انسان کس طرح میرے حکم پر عمل کر سکتا ہے۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ اس سے برتر و پاک ہے کہ ایسا الغوفعل کرے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 39 مطبوعہ ربوہ ) پھر آٹھویں بات جو ہے اس تعلق میں یہ ہے کہ جو شرائط احکام کی بجا آوری کے لئے خدا تعالیٰ نے لگائی ہیں وہ