خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 248
248 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 29 مئی 2009 پھر پانچویں بات اس ضمن میں یہ ہے اس کی وضاحت کہ اللہ تعالیٰ خلاف عقل باتوں کو مانے پر کس کو مجبور نہیں کرتا اور اس وجہ سے اسے مکلف نہیں ٹھہراتا کہ کیوں یہ باتیں نہیں مانیں۔قرآن کریم میں بے شمار جگہ حکیم کا لفظ آیا ہے۔ہر بات جو ہے حکمت سے پُر ہے اس کی حکمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس کا حکم دیتا ہے بجا لانے کا۔جو بھی حکم اتارا ہے تمام تر حکمتوں کے بیان سے اتارا ہے۔بلکہ آنحضرت ﷺ کو جب مبعوث فرمایا اور جن کاموں کو آپ کے لئے خاص کیا۔ان میں حکمت پھیلانا بھی ایک کام تھا۔بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو آئندہ آنے والے کے مقام کے بارہ میں دعا سکھائی گئی۔اُس میں بھی حکمت کو خاص طور پر پیش نظر رکھا گیا۔حکمت کیا ہے۔عدل و انصاف کو جاری کرنا ہے۔اس کا مطلب علم کو کامل کرنا ہے۔اس کا مطلب ہر بات کی دلیل پیش کرنا ہے یعنی جب کوئی حکم دیا تو اس کے کرنے یا نہ کرنے کی وجوہات بتا ئیں اور یہی عقل کا تقاضا ہے۔مثلا شراب اور جوئے سے اگر روکا ہے تو روکنے کے حکم کے ساتھ فرمایا کہ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ۔قُلْ فِيْهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا (البقرة : 220 ) کہ وہ تجھے سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ ان کاموں میں بڑا گناہ ہے اور نقصان ہے اور اس میں لوگوں کے لئے بعض منفعتیں بھی ہیں اور ان کا گناہ اور نقصان ان کے نفع سے بہت بڑا ہے۔اب شراب پینے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ جہاں وہ انسان کو نشہ کی حالت میں لا کر عبادتوں سے روکتا ہے وہاں معاشرے کے امن کو بھی خراب کرتا ہے۔اور پھر یہ بھی اب ثابت شدہ حقیقت ہے کہ شراب پینے والے کے جب وہ شراب کا ایک جام چڑھاتا ہے تو دماغ کے ہزاروں خلیے متاثر ہوتے ہیں۔اس لئے شراب پینے سے اس دلیل کے ساتھ منع کیا گیا ہے اور یہی حال جو اکھیلنے والوں کا ہے جو اکھیلنے والا اتنا زیادہ ایڈ کٹ (adict) ہو جاتا ہے کہ عبادت سے محروم ہو جاتا ہے اور کسی چیز کی ہوش ہی نہیں رہتی۔ناجائز ذرائع سے پیسہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وقت کا ضیاع کرتا ہے۔گھریلو ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتا ہے۔عقل کے استعمال کی بجائے شراب اور جوئے کی برائیوں میں پڑے ہوئے لوگ جو ہیں جوش اور غصہ دکھانے والے زیادہ ہوتے ہیں۔لیکن الکوحل جو ہے اگر بالکل معمولی مقدار میں انسانی فائدے کے لئے دوائیوں میں استعمال کیا جائے۔انسانی جان بچانے کے لئے دوائیوں میں استعمال کیا جائے تو وہاں یہ کی بھی جاتی ہے۔ہو میو پیتھی دوائیوں میں بھی استعمال ہوتی ہے اور دوسری دوائیوں میں بھی۔اتنی معمولی مقدار ہے کہ اس میں نشہ نہیں ہوتا۔لیکن خالص شراب جو ہے وہ پینے والے چاہیں تھوڑی پئیں وہ اپنا نقصان کر رہے ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ یہ عادت بڑھتی چلی جاتی ہے اور تھوڑی پینے کی عادت جو ہے وہ زیادتی میں بدلتی چلی جاتی ہے۔اس لئے تھوڑی پینے کی ممانعت ہے۔اسی طرح اگر اسلام میں روزہ کا حکم ہے تو اس کی حکمت بھی بیان کی گئی ہے اگر انسان سوچے تو نماز یا روزہ کا جو