خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 232

خطبات مسرور جلد ہفتم 232 (21) خطبه جمعه فرموده 22 مئی 2009 فرمودہ مورخہ 22 رمئی 2009ء بمطابق 22 ہجرت 1388 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ اَنْشَاكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ اَنْتُمْ آجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ۔فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتقى۔(النجم: 33) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : دو کبھی یہ دعوی نہ کرو کہ میں پاک صاف ہوں جیسے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَلا تُزَكُوا انْفُسَكُمُ کہ تم اپنے آپ کو مُزَشی مت کہو۔وہ خود جانتا ہے کہ تم میں سے متقی کون ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 96 - جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس پاک ہونا، مری ہونا ، تقویٰ سے مشروط ہے۔اور تقویٰ کیا ہے؟ ہر قسم کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بچنا۔ہر اس عمل کو بجالانا جس کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ہر اس بات سے بچنا جس کے نہ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے بار بار قرآن کریم میں فرمایا ہے، میں تمہارے نفسوں کو پاک کرتا ہوں اور جانتا ہوں کہ کس کے دل میں حقیقی تقویٰ بھرا ہوا ہے اور کس حد تک کسی کا تزکیہ ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ جو دلوں کا حال جانتا ہے اسے وہ بھی پتہ ہے جو ہم ظاہر کرتے ہیں اور اس کے علم میں وہ بھی ہے جو ہم چھپاتے ہیں۔اللہ تعالی کو بھی بھی اور کسی رنگ میں بھی دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔حدیث میں آتا ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔خدا تعالیٰ جو دلوں کا حال جانتا ہے وہ بندے کے عمل کرنے کی نیت کا علم رکھتا ہے۔بظاہر نیکیاں کرنے والے ، عبادتیں کرنے والے، روزے رکھنے والے حتی کہ کئی کئی حج کرنے والے بھی ہیں لیکن اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی نیتوں میں فتور ہے تو اس فتور کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہیں ہیں۔یہ تمام عبادتیں اور نیکیاں نہ صرف رد کر دی جاتی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہلاکت کا باعث بن جاتی ہیں جس کا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ جہاں انذار کے ذریعہ سے ہمیں ڈراتا ہے، توجہ دلاتا ہے کہ ہوشیار ہو جاؤ وہاں اپنی وسیع تر رحمت کا حوالہ دے کر بخشش