خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 7
خطبات مسرور جلد ہفتم 7 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 جنوری 2009 حضرت ابوبکر صدیق کو ہمیشہ کے لئے آنحضرت ﷺ کا بہترین ساتھی قرار دے دیا اور ان فضلوں کا بھی ساتھی بنا دیا جو اس ہجرت کے سفر میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت علیہ پر فرمائے تھے۔پس ایسے بزرگوں کی شان میں کسی قسم کے ایسے الفاظ کہنا جن سے ان کے مقام میں کسی بھی قسم کی کمی نظر آتی ہو ایک مسلمان کا ، ایسے مسلمان کا کام نہیں ہے جو آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے والا ہے۔آپ کی آل میں وہ خونی رشتے دار، جنہوں نے روحانی رشتے کو بھی نبھایا جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے اور اس کے بلند معیار قائم کئے ، ان کے علاوہ وہ رشتے بھی شامل ہیں جنہوں نے روحانیت کا تعلق جوڑا۔پس آج ہمارا کام ہے کہ جب دنیا میں ایک دوسرے کے لئے نفرتوں کی دیوار میں بلند ہو رہی ہیں۔مسلمان کہلا کر پھر ایک دوسرے سے نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں تو یہ درود پڑھیں ، دعائیں کریں۔ایک ہمدردی کے جذبے سے اُمت محمدیہ کے لئے بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی حقیقی رنگ میں درود شریف کی پہچان کرنے والا بنائے تا کہ مسلمان رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (فتح: 30) کا حقیقی نظارہ دیکھیں۔ان کے لئے دعائیں کرنا ہمارا فرض بھی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے درود کی برکات اور اہل بیت سے تعلق کا جو ادراک ہمیں عطا فرمایا ہے وہ میں آپ کے الفاظ میں بیان کرتا ہوں۔آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ: - ایک مرتبہ الہام ہوا، جس کے معنے یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں یعنی ارادہ الہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے۔اللہ تعالیٰ دین کو دوبارہ زندگی دینا چاہتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ جوش میں ہے لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص مُخبى کے تعین ظاہر نہیں ہوئی۔اس لئے وہ اختلاف میں ہے لیکن یہ نہیں پتہ لگ رہا کہ کس کے ذریعہ سے یہ زندگی دوبارہ پیدا کی جانی ہے تو اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک مُحیی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارے سے اس نے کہا هذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُولَ اللهِ يعنى يوه آدمی ہے جو رسول اللہ علیہ سے محبت رکھتا ہے۔اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے“۔یعنی اس عہدے کے لئے جو زندہ کرنے والا ہے سب سے بڑی شرط محبت کی ہے۔جس نے مُحیی بنا ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے محبت میں سب سے زیادہ ہونا چاہئے۔سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔وہ اس شخص میں پائی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف اشارہ کر کے فرشتوں نے کہا۔فرماتے ہیں کہ اور ایسا ہی الہام متذکرہ بالا میں جو آل رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے۔یہ جس الہام کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہے جو پہلے ہوا تھا، یہاں نہیں پڑھا گیا کہ اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَالِ مُحَمَّدٍ سَيّدِ وُلدِ آدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّين - فرمایا کہ اور ایسا ہی الہام متذکرہ بالا میں جو آل رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے سو اس میں بھی یہی سر ہے کہ افاضہ انوارالہی میں محبت اہل بیت کو بھی نہایت عظیم دخل ہے اور جو شخص حضرت احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے وہ انہی طیبین طاہرین کی