خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 6
خطبات مسرور جلد ہفتم 6 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 جنوری 2009 پر حملہ کیا گیا۔پاکستان میں بعض مولوی ، وہ لوگ جو دینی علم رکھنے والے سمجھے جاتے ہیں جن سے توقع کی جاتی ہے کہ مسجد کے منبر سے ہمارے آقاو مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت کو پورا کرتے ہوئے اس جگہ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے محبت و پیار کا پیغام دیں لیکن یہ ہوا و ہوس میں ڈوبے ہوئے لوگ منبر رسول علے سے نفرتوں کا پیغام دیتے ہیں۔محبتوں کے سفیر بنے کی بجائے نفرتوں کے پیغامبر بنتے ہیں۔اور پھر اسی وجہ سے حکومت یہ اعلان کرتی ہے اور یہ اعلان اخباروں میں چھپتے ہیں کہ فلاں مولوی پر فلاں فلاں جگہ جانے پر پابندی ہے۔اتنے عرصے کے لئے پابندی لگائی گئی ہے تا کہ وہ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرتوں کے بیچ نہ ہوسکیں۔پس یہ تو حال ہے آج ان لوگوں کا جو ایک طرف تو قرآن اور سنت کی تعلیم دیتے اور دوسری طرف نفرتوں کے بیج بوتے ہیں اور نفرتوں کی دیواریں کھڑی کر رہے ہیں۔ہر سال یہ پابندیوں کا مستقل عمل ہے جو حکومتوں کو ہرانا پڑتا ہے۔پھر کر بلا میں بھی خود کش حملے ہوتے ہیں۔شیعہ سنیوں پر حملے کرتے ہیں۔سنی شیعوں پر حملے کرتے ہیں۔اس کو روکنے کے لئے حکومتوں کو علماء کی کمیٹیاں بنانی پڑتی ہیں تا کہ ملک میں فساد نہ پھیلے۔اور اگر محرم کے دن امن سے گزر بھی جائیں تو یہ نفرتوں کی جو باتیں ہیں، جو نفرتوں کے نعرے ہیں ، جو نفرتوں کے لاوے دلوں میں پک رہے ہوتے ہیں، یہ بعد میں پک کے نکلتے ہیں اور سارا سال مختلف جگہوں پر کچھ نہ کچھ فساد ہوتا رہتا ہے اور دونوں بظاہر مسلمان بھی ہیں اور درود پڑھنے والے بھی ہیں تو کیا ایسے لوگوں کے لئے آنحضرت مہ نے سفارشی بنے کا اعلان فرمایا ہے؟ سوچنے کا مقام ہے۔ہمیں اس لحاظ سے بھی دعا کرنی چاہئے اور درود پڑھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے والے، آنحضرت علی کے حقیقی پیغام کو سمجھنے والے بھی بنیں۔درود کی حقیقت کو سمجھیں اور آج جبکہ عالم اسلام خطرے میں ہے تو ایک اکائی کا ثبوت دیں تا کہ دشمن کی میلی آنکھ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔درود شریف میں جب ہم آل رسول پر درود بھیجتے ہیں تو ان روحانی اور جسمانی رشتوں کا بھی خیال آتا ہے جو آنحضرت مے سے تعلق رکھنے والے ہیں۔آنحضرت علی لوہے کے وہ خونی رشتے جنہوں نے روحانی رشتہ دار ہونے کا بھی حق ادا کیا ہے اور ایسا حق ادا کیا ہے کہ جس کے معیار بلندیوں کو چھو رہے ہیں، ان کے بارے میں کسی حقیقی مسلمان کے دل میں خیال آہی نہیں سکتا کہ کوئی نازیبا کلمات ان کے بارے میں کہیں۔بلکہ درود پڑھتے وقت بھی جب آل رسول پر درود بھیجتے ہیں تو وہ لوگ فوراً سامنے آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔اسی طرح آنحضرت ﷺ کے صحابہ ہیں۔وہ صحابہ جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آنحضرت ہی ہے کے جسم مبارک کو نقصان سے بچانے کے لئے ، ہر تکلیف سے بچانے کے لئے اپنے سینے آگے کر دیئے۔ان صحابہ میں ایک آنحضرت ﷺ کے غار کے وہ ساتھی بھی ہیں جن کو آنحضرت ﷺ نے فرمایا لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (التوبہ: 40)۔غم نہ کر یقینا اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو قرآن کریم میں درج کر کے