خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 164
164 خطبہ جمعہ فرمود ه 27 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد هفتم کے معاملہ میں تجسس نہ کرو۔یہ تجس خدا تعالیٰ کو نا پسند ہے۔اس تجس کے بعد پھر اگلا سٹیپ (Step) کیا ہوگا ، اگلا قدم کیا ہوگا کہ اپنی مجالس میں بیٹھ کر پھر ہجو کرو گے ، دوسرے کی چغلیاں کرو گے۔وہ باتیں جو دوسرے کے بارہ میں معلوم ہوتی ہیں اور جود وسرے شخص کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔یہ غیبت ہیں۔اور اللہ تعالیٰ تو پردہ پوشی کرنے والا ہے۔اور جن باتوں کی اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کی ہوئی ہے تم نے تجسس کر کے ان کو باہر نکالا اور پھر اس کا ذکر شروع کر دیا۔یہ اللہ تعالی کو انتہائی سخت نا پسند ہے۔جس چیز کی اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی فرمائی ہو اس کے بارہ میں کسی انسان کو حق نہیں پہنچتا کہ اس کی پردہ دری کرے۔اس لئے جو حدیث میں نے پڑھی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو دوسرے کی پردہ پوشی نہیں کرتا اسے میں سزا دوں گا۔کیونکہ یہ پردہ پوشی نہ کرنا جہاں دوسرے کو بدنام کرنے اور اسے دنیا کے سامنے ننگا کرنے کا باعث بنے گی وہاں معاشرے میں فساد پھیلے گا۔جب کسی کے بارہ میں راز کی باتیں بتائی جائیں گی۔اس کی راز کی باتیں تلاش کر کے لوگوں کو بتائی جائیں گی۔اس کا رد عمل سختی کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے جس سے پھر دشمنیاں بڑھتی چلی جائیں گی۔جبکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ آپس میں پیار اور محبت کے نمونے قائم کرو۔رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ کے نظارے تم میں نظر آنے چاہئیں۔دوسرے، ان رازوں کے فاش ہونے سے جن لوگوں کے بارہ میں باتیں کی گئیں، جن کے راز فاش کئے گئے ان کی باتوں کی بناء پر آپس میں تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔پہلی بات، جب ایک فریق کی پردہ دری کرو گے تو دوسرا فریق بھی غصہ میں آئے گا فساد اور لڑائیاں پیدا ہوں گی۔دوسری بات، جو باتیں کی گئیں بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ کسی میں پھوٹ ڈالنے والی ہوتی ہیں ان کے تعلقات خراب ہوں گے۔دو دلوں میں پھوٹ ڈالنے والے بنو گے۔مثلاً یہ کہہ دیا کہ تمہارا فلاں رشتہ دار فلاں دوست یا فلاں شخص فلاں موقع پر اس نے تمہارے متعلق یہ بات کی تھی مجھے اب پتہ لگی ہے۔تو اگر اس شخص نے حقیقت میں یہ چغلی فلاں وقت میں کسی کے خلاف کی بھی تھی تو سننے والے نے اسی وقت اس کو کیوں نصیحت نہیں کر دی اور اس معاملے کو کو دبا دیا سمجھا دیا۔اور اگر سمجھانے کی طاقت نہیں تھی تو کیوں نہ اس کے بارہ میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کرے۔لیکن اب وہ بات کر کے وہی شخص ( یہ بات پھیلانے والا جو ہے ) وہ چغلی کر رہا ہے۔یہ چغلی کرنے والا شخص ایک تو چغلی کے گناہ کا مرتکب ہو رہا ہے۔پردہ پوشی نہ کرنے کے گناہ کا مرتکب ہو رہا ہے اور دوسرے فساد کا پیدا کرنے والا بن رہا ہے اور فساد کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فتنہ جو ہے یہ تو قتل سے بھی زیادہ شدید ہے۔اور پھر ایک بات یہ کہ اس طرح چغلی کرنے والا معاشرے میں فحشاء کو پھیلانے کا باعث بن رہا ہے، برائیوں کے پھیلانے کا باعث بن رہا ہے۔کیونکہ وہ بات جس کا ذکر کیا جارہا ہے اگر بری ہے، گناہ ہے تو کمزوروں کے لئے کمزور ایمانوں کے لئے بعض دفعہ نو جوانوں کے لئے ترغیب بن جاتی ہے کہ چلو اس نے بھی اس طرح کیا تھا تو ہم بھی کر دیکھیں۔ایک برائی ظاہر ہو رہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ