خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 163
163 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کہ یہ باخدا ہے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے خدا تعالیٰ اپنی عظمت سے اس کو حصہ دیتا ہے اور یہی طریق نیک بختی کا ہے۔پس یا درکھو کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھائیوں کو دکھ دینا ٹھیک نہیں ہے۔آنحضرت اللہ جمیع اخلاق کے متمم ہیں۔( آپ میں سب اخلاق جمع ہوئے ہوئے ہیں اور اس وقت خدا تعالیٰ نے آخری نمونہ آپ کے اخلاق کا قائم کیا ہے۔اس وقت بھی اگر وہی درندگی رہی تو پھر سخت افسوس اور کم نصیبی ہے“۔(اب آخرین کے ساتھ مل کے جو پیشگوئیاں پوری ہو رہی ہیں اس سے فائدہ اٹھاؤ۔فرمایا کہ ” پس دوسروں پر عیب نہ لگاؤ کیونکہ بعض اوقات انسان دوسروں پر عیب لگا کر خود اس میں گرفتار ہو جاتا ہے اگر وہ عیب اس میں نہیں۔لیکن اگر وہ عیب سچ سچ اس میں ہے تو اس کا معاملہ پھر خدا تعالیٰ سے ہے۔بہت سے آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ اپنے بھائیوں پر معاً نا پاک الزام لگا دیتے ہیں۔( ذراسی بات ہوئی فوری طور پر الزام لگا دیا اور بڑا گندہ قسم کا الزام لگا دیا۔ان باتوں سے پر ہیز کرو۔بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاؤ اور اپنے بھائیوں سے ہمدردی، ہمسایوں سے نیک سلوک کرو اور اپنے بھائیوں سے نیک معاشرت کرو اور سب سے پہلے شرک سے بچو کہ یہ تقویٰ کی ابتدائی اینٹ ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 571 تا 573 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یہ ساری برائیاں جو پیدا ہوتی ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ مخفی شرک ہوتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا خوف ہو اور علم ہو کہ وہ دیکھ رہا ہے اور میری ہر بات کا اس کو علم ہے تو کبھی اس قسم کی حرکت انسان کر ہی نہیں سکتا جو اس کو برائیوں کی طرف لے جارہی ہو۔اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کی پردہ پوشی کرنے اور پردہ دری نہ کرنے کے بارے میں کتنا کچھ ارشاد فرمایا ہے۔ایک آیت میں آتا ہے۔یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِ۔إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ۔وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ الله تَوَّابٌ رَّحِيمٌ (الحجرات: 13) کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہوٹن سے بکثرت اجتناب کیا کرو۔یقینا بعض ظن گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کیا کرو اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔کیا تم میں کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔پس تم اس سے سخت کراہت کرتے ہو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یقینا اللہ تعالیٰ بہت تو بہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس آیت میں جس فطن کا ذکر کیا گیا ہے وہ بدظنی پر بنیا درکھتا ہے۔دنیا میں برائیاں پھیلانے میں بدظنی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔بدظنی کی وجہ سے ایک دوسرے کے عیب تلاش کئے جاتے ہیں تا کہ اس طرح اسے نیچا دکھایا جائے ، اسے بدنام کیا جائے۔اس لئے فرمایا کہ آپس کے تعلقات کے جو معاملات ہیں لوگوں کے ذاتی معاملات ہیں، ان