خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 160 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 160

160 خطبه جمعه فرمودہ 27 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم احسان کیا۔تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بیشمار نعمتوں سے مجھے تمتع کیا۔سواب بھی مجھ نالائق اور پر گناہ پر رحم کر اور میری بیبا کی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کو میرے اس غم سے نجات بخش کہ بجز تیرے اور کوئی چارہ گر نہیں۔آمین ثم آمین۔( مکتوبات احمد جلد نمبر 2 صفحہ 10 مکتوب نمبر 2 بنام حضرت مولانا حکیم نا ورالدین صاحب جدید ایڈیشن مطبوعه ر بوه) پھر ایک اور جگہ ایک اور دعا اس طرح آپ نے بتائی کہ اے رب العالمین تیرے احسانوں کا میں شکر نہیں کر سکتا۔تو نہایت ہی رحیم وکریم ہے اور تیرے بے غایت مجھ پر احسان ہیں۔میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے۔میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔رم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔آمین ثم آمین۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 153 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ دعائیں ہیں جو ہمارا خاصہ ہونا چاہئیں۔تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں بھی رہیں اور اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں اور گناہوں پر نظر بھی رکھتے رہیں اور اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش بھی کرتے اللہ تعالیٰ کی صفت ستار سے فیض پانے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے ایک مومن پر کیا ذمہ داری ڈالی ہے؟ اس بارہ میں میں چند ایک احادیث پیش کرتا ہوں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی مومن عورت کی حرمت کی پردہ پوشی کی تو اللہ تعالیٰ آگ سے اسے محفوظ رکھے گا“۔(مجمع الزوائد جلد 6 صفحہ 268 - کتاب الحدود والدیات باب الستر علی المسلمین۔حدیث نمبر 10477 دارالکتب العلمیة بیروت 2001ء) یہ حدیث خاص طور پر ان لوگوں کے لئے میں نے چنی ہے کہ جب میاں بیوی کے تعلقات باہم ایک دوسرے کے ساتھ خراب ہوں تو ایک دوسرے پر الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں اور پھر یہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے گھر والے بھی اور خاص طور پر جب لڑکے کے گھر والے لڑکی پہ یا لڑکی کے گھر والے لڑکے پر الزام لگا رہے ہوتے ہیں تو بعض دفعہ بلا وجہ الزام لگ رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پردہ پوشی کرو۔بعض جائز باتیں بتائی جارہی ہوتی ہیں۔بعض سراسر تہمتیں لگائی جارہی ہوتی ہیں۔بعض دفعہ لڑکا یا اس کے گھر والے قضاء میں یا عدالت میں لڑکی پر ایسے ایسے الزام لگا رہے ہوتے ہیں کہ اُن کو سُن کر شرم آتی ہے۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مومن عورت کی حرمت کی پردہ پوشی کرو تو اللہ تعالیٰ آگ سے محفوظ رکھے گا۔بعض دفعہ علیحد گیاں بھی ہو جاتی ہیں ، جو بھی وجوہات ہوں علیحدہ ہونا ہے تو بیشک ہوں لیکن ایسے الزامات جو پیش کئے جاتے ہیں ان کے بغیر بھی وہ مدعا حاصل کیا جا سکتا ہے۔