خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 159
159 خطبه جمعه فرمودہ 27 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اور بعض دفعہ رحمانیت کے جلوے دکھا رہا ہوتا ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ رحیمیت سے بھی پردہ پوشی فرما دیتا ہے اور انسان کچھ نہ کچھ جو عمل کر رہا ہے اس پر جزا بھی دے رہا ہوتا ہے اور اگر انسان میں برائی پر شرمندگی کا احساس ہو، تو بہ کی طرف توجہ ہوتو اللہ تعالیٰ پردہ پوشی فرماتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے حیا اور پردہ پوشی کو پسند کرنے سے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان اپنی برائیوں میں بڑھتا چلا جائے اور اپنی کوتاہیوں میں بڑھتا چلا جائے۔اس طرح پھر برائیوں میں بڑھنے کا جواز پیدا ہوتا چلا جائے گا۔ایسا انسان جو اس بات پر قائم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش ہی دینا ہے اس لئے عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ معاشرے کو مزید خراب کرنے والا ہوگا۔اس لئے حدیث میں بھی اس کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ ایسے جو ڈھیٹ لوگ ہوں ،ضد کرنے والے ہوں ان کی پھر اللہ تعالیٰ حیا نہیں رکھتا۔بلکہ ان کے اندھیروں میں کئے گئے گناہوں کو بھی ظاہر فرما دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی صفت ستار کے حوالے سے اس سے مستقل یہ دعا مانگتے رہنا چاہئے کہ ہمیں اپنی ستاری کی چادر میں ڈھانپ لے۔آنحضرت ﷺ نے جو دعائیں سکھائیں ان کے بارہ میں ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت جُبَيْر مِن مُطْعَم روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ یہ ان دعاؤں کو کبھی ترک نہیں کرتے تھے۔جو یہ ہیں کہ اے اللہ میرے ننگ کو ڈھانپ دے اور میرے اندیشوں کو امن میں بدل دے۔اے اللہ میری حفاظت فرما ( ان خطرات سے ) جو میرے آگے ہیں اور جو میرے پیچھے ہیں۔جو میرے دائیں ہیں اور جو میرے بائیں ہیں اور جو میرے اوپر ہیں اور میں تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں ( ان خطرات سے ) جو مجھے نیچے سے اچک لیں۔(ابوداؤد۔کتاب الادب باب ماذا يقول اذا اصبح۔حدیث نمبر (5074) یہ اللہ تعالیٰ کی مکمل ستاری اور مغفرت کی دعائیں ہیں۔آنحضرت مے سے تو آپ کی ہر قسم کی حفاظت کے ، ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کے اللہ تعالیٰ کے وعدے تھے۔بلکہ آپ نے فرمایا کہ میرا تو شیطان بھی مسلمان ہو گیا ہے۔(صحیح مسلم کتاب صفات المنافقین واحكامهم باب تحریش الشيطان۔۔۔۔حدیث :7110) یہ دعا ئیں تو اصل میں ہمیں سکھائی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس روح کو سمجھتے ہوئے ان دعاؤں کو پڑھنے کی توفیق بھی عطا فرمائے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔پھر اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق نے جو ہمیں دعا ئیں سکھائی ہیں۔اس بارے میں ان کے بھی ایک دو نمونے پیش کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”اے میرے محسن اور اے خدا ! میں تیرا ناکارہ بندہ پر معصیت اور پُر غفلت ہوں۔تو نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا اور گناہ پر گناہ دیکھا اور احسان پر