خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 122
122 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم غرض کے حصول کے لئے ہماری قربانیاں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو بے شمار تحریرات میں ہمیں ہمیشہ ان امتحانوں اور ابتلاؤں سے آگاہ فرماتے رہے جو آج بھی موجود ہیں کہ ابتلاء آ ئیں گے، تمہیں آزمایا جائے گا اور پھر اس کے نتیجہ میں خوشخبریاں بھی دیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” اس وقت میرے قبول کرنے والے کو بظاہر ایک عظیم الشان جنگ اپنے نفس سے کرنی پڑتی ہے۔وہ دیکھے گا کہ بعض اوقات اس کو برادری سے الگ ہونا پڑے گا۔اس کے دنیاوی کاروبار میں روک ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔اس کو گالیاں سننی پڑیں گی لعنتیں سنے گا۔مگر ان ساری باتوں کا اجر اللہ تعالی کے ہاں ملے گا۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 16۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) آج اس زمانہ میں بھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان الفاظ کو جو آپ نے فرمائے بعض ملکوں میں بعینہ اسی طرح پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔اور آج بھی جو احمدی قربانیاں کر رہے ہیں وہ یقینا اللہ تعالیٰ کا اجر پانے والے ہیں۔ان دنوں میں پاکستان میں اور پاکستان کے بعد ہندوستان میں بھی خاص طور پر غیر احمدیوں نے نو مبائعین کے ساتھ انتہائی ظلم کا سلوک روا رکھا ہوا ہے۔پاکستان میں بھی نئی حکومت کے بعد احمد یوں پر ہر قسم کی ظلم و زیادتی کو کار ثواب سمجھا جاتا ہے۔مولویوں کو حکومت نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور ان لوگوں کے عزائم اور منصوبے انتہائی خوفناک اور خطرناک ہیں۔ایک تو ملک میں ویسے بھی قانون نہیں ہے۔آج کل لاقانونیت کا دور دورہ ہے اور پھر احمدیوں کے لئے تو رہا سہا قانون بھی کسی قسم کی مدد کرنے کے قابل نہیں ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ جب بھی یہ لوگ جماعت کے خلاف کوئی بڑا منصوبہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ ان کے مکر ان پر الٹا دیتا ہے اور ان کو اپنی پڑ جاتی ہے۔گزشتہ چند سالوں سے ہم یہی دیکھ رہے ہیں اور ان دنوں میں بھی بظاہر یہی نظر آتا تھا کہ ایک منصوبہ جماعت کے خلاف بنانے کی کوشش کی جاری ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے خود ملک میں ایسی افراتفری پیدا کر دی کہ ان کو اپنی پڑ گئی۔پس جہاں جہاں بھی احمدی ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں وہ یا درکھیں کہ یہ شیطان کے ساتھ آخری جنگ ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر آپ اس فوج میں داخل ہوئے ہیں جو اس زمانے کے امام نے بنائی۔اس لئے اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ سے ثبات قدم اور استقامت مانگتے ہوئے ہمیشہ اور ہر وقت صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کریں۔اللہ تعالیٰ کے آگے مزید جھکیں۔آخری فتح انشاء اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی ہی ہے۔جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے کہ ان شیطانی اور طاغوتی قوتوں کو شکست دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم فرمایا ہے۔لیکن ایک بات ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ بیرونی شیطان کو شکست دینے کے لئے جو اندرونی شیطان ہے اس کو بھی زیر کرنا ہوگا۔کیونکہ ہماری فتح مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جڑنے کی وجہ سے ظاہری اسباب سے نہیں ہوئی بلکہ دعاؤں سے ہونی ہے اور دعاؤں کی قبولیت کے لئے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق چلنے والا بنانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے نفس کا جہاد بھی بہت ضروری ہے۔