خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 121
خطبات مسرور جلد ہفتم 121 (10 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 مارچ 2009 فرمودہ مورخہ 06 / مارچ 2009 ء بمطابق 06 / امان 1388 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف مواقع پر جماعت کو جو نصائح فرمائیں، جن میں جماعت کے قیام کی غرض کے بارہ میں بھی بتایا اور افراد جماعت کی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی اور پھر ان ذمہ داریوں کے پورا کرنے اور اس غرض کے حصول کی کوشش کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہوں گے جن کا اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ کیا ہے اور من حیث الجماعت بھی اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو کہاں تک پہنچانا ہے اس بارہ میں بھی آپ نے بتایا۔اس حوالہ سے میں اس وقت چند باتیں آپ کے سامنے پیش کروں گا تا کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس رہے اور اس کی جگالی کرتے ہوئے ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اس کی رضا کو حاصل کرنے والے بھی بن سکیں اور ان فضلوں کے وارث بن سکیں جو جماعت سے وابستہ رہ کر ہمیں ملیں گے۔سلسلہ کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یہ زمانہ بھی روحانی لڑائی کا ہے۔شیطان کے ساتھ جنگ شروع ہے۔شیطان اپنے تمام ہتھیاروں اور مکروں کو لے کر اسلام کے قلعہ پر حملہ آور ہورہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسلام کو شکست دے مگر خدا تعالیٰ نے اس وقت شیطان کی آخری جنگ میں اس کو ہمیشہ کے لئے شکست دینے کے لئے اس سلسلے کو قائم کیا ہے“۔آپ فرماتے ہیں: ”مبارک وہ جو اس کو شناخت کرتا ہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 16 - جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 16 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس سلسلہ میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ہم میں سے بعض کو ان کے بزرگوں کی نیکیوں کی وجہ سے اس سلسلہ کو شناخت کرنے کی توفیق عطا ہوئی اور ہم احمدی خاندانوں میں پیدا ہوئے اور بعض کو خود اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی کہ وہ بیعت کر کے سلسلے میں داخل ہوئے اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ جاری رہے گا تا کہ ہم اس گروہ خاص میں شامل ہو جائیں جس نے شیطان کے خلاف اسلام کی آخری جنگ لڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بننا ہے۔اس وجہ سے ہم میں سے بعض کو بعض ممالک میں سختیوں اور ابتلاؤں سے بھی گزرنا پڑ رہا ہے کہ ہم نے اس زمانہ کے امام کو مانا ہے۔لیکن ایک عظیم مقصد اور