خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 118 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 118

118 خطبه جمعه فرموده 27 فروری 2009 خطبات مسرور جلد هفتم احمدیوں کی مخالفت میں آج کل وہاں بڑھ چڑھ کر کوئی نہ کوئی کارروائی ہورہی ہوتی ہے۔گو زندگی کی اس ملک میں کوئی قیمت نہیں ہے۔مگر احمدی کو صرف اس لئے قتل کیا جاتا ہے، مارا جاتا ہے ، شہید کیا جاتا ہے کہ وہ اس زمانہ کے امام کو ماننے والا ہے۔روزانہ کوئی نہ کوئی شہادت کی خبر آ رہی ہوتی ہے یا تکلیفوں سے گزرنے کی خبریں آرہی ہوتی ہیں۔دو دن پہلے ہی ہمارے ایک مربی صاحب یوم مصلح موعودؓ کے جلسہ سے واپس آ رہے تھے اور بس کے انتظار میں کھڑے تھے کہ ایک دم دو موٹر سائیکل سوار آئے اور انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔بھگڈر مچ گئی۔لوگ تو دوڑ گئے۔ان لوگوں میں کچھ خوف تھا۔فائر کرنے والے خود بھی چلے گئے لیکن دوبارہ انہوں نے نشانہ لے کر مربی صاحب پر فائرنگ کی۔بہر حال اللہ نے فضل کیا ٹانگوں میں گولیاں لگی ہیں۔ہسپتال میں داخل ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی صحت دے اور اس قوم کو بھی عقل دے کہ جس طرف یہ لیڈ راب لے جا رہے ہیں اُن لیڈروں کو بھی سمجھ نہیں آ رہی۔ایک تو خودان کے اندر بد دیانتی ہے دوسرے مولوی کے ہاتھ میں چڑھ کے مزید بد دیانتی پیدا ہوتی چلی جارہی ہے اور ملک کو انہوں نے داؤ پر لگایا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔اس وقت میں چند جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ان کے بارہ میں مختصر بتا دیتا ہوں۔ایک تو مبشر احمد صاحب ابن مکرم محمود احمد صاحب کراچی کا ہے۔ان کی عمر 42 سال تھی اور 22 فروری کو ان کو بھی بعض نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔کچھ عرصہ سے آپ کو قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور اس علاقہ کا جو SHO ہے، پولیس انسپکٹر۔اس نے کہا ہے کہ وہاں ایک مدرسہ تھا جہاں سے دو آدمی نکلے ہیں اور ان پر فائرنگ کر دی۔بہر حال جہاں یہ کام کرتے تھے جب رات دیر تک گھر نہیں آئے تو گھر والوں نے وہاں سے پتہ کیا تو اطلاع ملی کہ ان کو نامعلوم افراد نے شہید کر دیا ہے۔بڑے مخلص اور نمازوں کے پابند اور دعوت الی اللہ کا جوش رکھنے والے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں۔اہلیہ نے خود بیعت کی اور احمدیت میں شامل ہوئی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کی بھی حفاظت فرمائے اور خود ان کا کفیل ہو۔دوسرا جنازہ ہمارے بہت بزرگ دوست احمدی بھائی منیر حامد صاحب کا ہے جو الیفر و امریکن تھے وہ 21 فروری کو 70 سال کی عمر میں وفات پاگئے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - 1957ء میں انہوں نے 15 سال کی عمر میں خود بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی اور نہایت مخلص وفا شعار فدائی احمدی تھے۔ہمیشہ جماعتی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔ان کو امریکہ کے پہلے نیشنل قائد خدام الاحمدیہ ہونے کا بھی اعزاز ملا ہے۔30 سال سے زیادہ عرصہ صدر جماعت فلاڈلفیا(Philadelphia) رہے۔1997ء سے وفات تک یہ جماعت امریکہ کے نائب امیر کے طور پر کام کر رہے تھے۔آپ کے والدین مسلمان نہیں تھے اور والد کو تو مذہب سے بھی دلچسپی نہیں تھی لیکن والدہ جو تھیں وہ نہ صرف چرچ جاتی تھیں بلکہ وہ ان کو چرچ کے مشنری کے طور پر کام کی ترغیب دلایا کرتی تھیں۔10 بہن