خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 104 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 104

خطبات مسرور جلد ہفتم 104 خطبہ جمعہ فرموده 20 فروری 2009 وہ درجہ بہتر ہے۔مردے کی بھی روح ہی دعا سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعا سے ایک روح ہی منگائی گئی ہے۔مگر ان روحوں اور اس روح میں لاکھوں کوسوں کا فرق ہے۔جولوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں آنحضرت ﷺ کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوتے بلکہ ان کو بڑا رنج پہنچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔(اشتہار واجب الاظہار 22 مارچ 1886ء مجموعہ اشتہارات - جلد اول صفحہ صفحہ 100-99 مطبوعہ ربوہ ) یہ پس منظر اور اہمیت اس پیشگوئی کی ہے جو مختصرا میں نے بیان کی ہے اور اس پیشگوئی کی شان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس آخری اقتباس میں ہم نے دیکھی اور سنی۔اس لئے مجھے امید ہے کہ اب بعض لاعلم احمدی جو مختلف جگہوں سے خطوں میں لکھ دیتے ہیں، یہاں بھی سوال کر دیتے ہیں کہ ہم یوم مصلح موعود کیوں مناتے ہیں، باقی خلفاء کے دن کیوں نہیں مناتے ان پر واضح ہو گیا ہو گا کہ مصلح موعود کی پیشگوئی کا دن ہم ایمانوں کو تازہ کرنے اور اس عہد کو یاد کرنے کے لئے مناتے ہیں کہ ہمارا اصل مقصد اسلام کی سچائی اور آنحضرت یہ کی صداقت کو دنیا پر قائم کرنا ہے۔یہ کوئی آپ کی پیدائش یا وفات کا دن نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذریت میں سے ایک شخص کو پیدا کرنے کا نشان دکھلایا تھا جو خاص خصوصیات کا حامل تھا اور جس نے اسلام کی حقانیت دنیا پر ثابت کرنی تھی۔اور اس کے ذریعہ نظام جماعت کے لئے کئی اور ایسے راستے متعین کر دیئے گئے کہ جن پہ چلتے ہوئے بعد میں آنے والے بھی ترقی کی منازل طے کرتے چلے جائیں گے۔پس یہ دن ہمیں ہمیشہ اپنے ذمہ داری کا احساس کرواتے ہوئے اسلام کی ترقی کے لئے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور دلانے والا ہونا چاہئے نہ کہ صرف ایک نشان کے پورا ہونے پر علمی اور ذوقی مزہ لے لیا۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔ایک بات اور واضح کرنا چاہتا ہوں کل ہی میں نے ڈاک میں دیکھا کہ کسی ملک کی انصار اللہ کی تنظیم کا ایک پر وگرام تھا کہ ہم نے یوم مصلح موعود پر بڑا وسیع کھیلوں کا پروگرام رکھا ہے اور تھوڑ اسا علمی موضوع پر بھی پروگرام ہو گا ، اجلاس ہو گا۔انصار اللہ کا کھیل کود سے کیا کام ہے؟ انصار کو تو چاہئے تھا کہ اپنے عہد کی طرف توجہ کرتے اور ان راستوں پر چلنے کی کوشش کرتے جن پر چلانے کے لئے مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے راہنمائی فرمائی ہے اور انصار اللہ کی تنظیم قائم فرمائی ہے تا کہ ہم آنحضرت ﷺ کے پیغام کو جلد سے جلد دنیا میں پھیلانے والے بن سکیں اور مجھے امید ہے کہ انصار اللہ جس نے یہ پروگرام بنایا ہے ہمیں نام نہیں لینا چاہتا ، وہ اپنے اس فیصلہ پر نظر ثانی کریں گے اور آئندہ بھی لوگ اس کی احتیاط کریں گے۔الفضل انٹرنیشنل جلد 16 شماره 11 مورخہ 13 مارچ تا 19 مارچ 2009 صفحہ 5 تا صفحہ 9)