خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 86
86 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم سے ان کے وارث بناتا ہے۔پس ان کی امت ان کی وارث ہوتی ہے۔وہ سب کچھ پاتے ہیں جو ان کے نبیوں کو ملا ہو بشر طیکہ وہ ان کے پورے پورے متبع بنیں اور اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے آیت قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ الله فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران : 32) میں اشارہ فرمایا ہے۔(کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 89- ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ 271-272 - حاشیہ) پس یہ دعا توحید کی طرف لے جاتی ہے۔پھر آپ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اسلام کا نام استقامت ہے فرماتے ہیں کہ: قرآن شریف میں اس کا نام استقامت رکھا ہے (یعنی اسلام کا نام استقامت رکھا ہے۔جیسا کہ وہ یہ دعا سکھلاتا ہے، اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی ہمیں استقامت کی راہ پر قائم کر۔ان لوگوں کی راہ جنہوں نے تجھ سے انعام پایا اور جن پر آسمانی دروازے کھلے۔واضح رہے کہ ہر ایک چیز کی وضع استقامت اس کی علت غائی پر نظر کر کے سمجھی جاتی ہے"۔(یعنی ہر چیز کی جو استقامت کی حالت ہے وہ اس کی جو بنیادی غرض ہے اس پر نظر رکھ کے سمجھی جاتی ہے ) اور انسان کے وجود کی علت غائی یہ ہے کہ نوع انسان خدا کے لئے پیدا کی گئی ہے ( انسان کے پیدا کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان خدا کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔پس انسانی وضع استقامت یہ ہے کہ جیسا کہ وہ اطاعت ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے ایسا ہی درحقیقت خدا کے لئے ہو جائے اور جب وہ اپنے تمام قومی سے خدا کے لئے ہو جائے گا تو بلاشبہ اس پر انعام نازل ہوگا۔جس کو دوسرے لفظوں میں پاک زندگی کہہ سکتے ہیں۔جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب آفتاب کی طرف کی کھڑ کی کھولی جائے تو آفتاب کی شعاعیں ضرور کھڑکی کے اندر آ جاتی ہیں۔۔فرمایا کہ اس پاک زندگی کے پانے کا مقام یہی دنیا ہے۔اس کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا ) بنی اسرائیل : 73) یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا رہا ہے اور خدا کو دیکھنے کا اس کو نور نہ ملاوہ اس جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا“۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 344) پس یہ اندرونی غلاظتیں ایک دفعہ میں اور بغیر کسی کوشش کے نہیں دھل جاتیں جیسا کہ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کے لئے مسلسل کوشش کی ضرورت ہے۔دعا کی ضرورت ہے اور تب ہی پھر اللہ تعالیٰ کا فضل ظاہر ہوتا ہے اور پھر وہ اچانک انسان کو اپنے نور میں لپیٹ لیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ”انسان کا اسم اعظم استقامت ہے اور اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں“۔