خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 85

خطبات مسرور جلد ہفتم 85 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 سے پاک کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس دعا کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ : پھر جان لو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کی آیت میں نفوس کو شرک کی باریک راہوں سے پاک کرنے اور ان راہوں کے اسباب کو مٹانے کی طرف عظیم اشارہ ( پایا جاتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس آیت میں نبیوں کے کمالات کے حاصل کرنے اور ان ( کمالات کے دروازوں کو کھولے جانے کی استدعا کی ترغیب دی ہے کیونکہ زیادہ تر شرک نبیوں اور ولیوں کے متعلق غلو کرنے کی وجہ سے دنیا میں آیا ہے اور جن لوگوں نے اپنے نبی کو ایسا یکتا اور منفرد اور ایسا وحدہ لاشریک گمان کیا جیسے ذات رب العزت ہے ان کا مال کار یہ ہوا کہ انہوں نے کچھ مدت کے بعد اُسی نبی کو خدا تعالیٰ کے مقابلے پہ لائے اور معبود بنالیا۔(آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ اس نبی کو معبود بنالیا۔اسی طرح ( حضرت عیسی کی تعریف میں ) مبالغہ آرائی کرنے اور حد سے بڑھنے کی وجہ سے عیسائیوں کے دل بگڑ گئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں اسی فساد اور گمراہی کی طرف اشارہ فرماتا ہے اور اس طرف بھی اشارہ فرماتا ہے کہ ( اللہ تعالیٰ سے ) انعام پانے والے لوگ یعنی رسول ، نبی اور محدث اس لئے مبعوث کئے جاتے ہیں کہ لوگ ان بزرگ ہستیوں کے رنگ میں رنگین ہوں ، نہ اس لئے کہ وہ ان کی عبادت کرنے لگیں اور انہیں بتوں کی طرح معبود بنالیں۔پس ان با اخلاق پاکیزہ صفات والی ہستیوں کو دنیا میں بھیجنے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ( ان کا ہر متبع ان صفات سے متصف ہو نہ یہ کہ انہیں کو پتھر کا بت بنا کر اس پر ماتھا رگڑنے والا ہو۔کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 89 - ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ 271 - حاشیہ) اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ ولی بنو، ولی پرست نہ بنو اور پیر بنو پیر پرست نہ بنو۔ہمارے ہاں بھی پیر پرستی کا بعض جگہوں پر بڑا رواج ہو گیا ہے اور بعض لوگوں نے کاروبار بھی بنا لیا ہے۔جس طرح مسلمانوں کے بعض چینل 24 گھنٹے چل رہے ہوتے ہیں کہ کتاب کھولی اچھا کیا استخارہ کرانا ہے اور وہیں دو چار لفظ پڑھے اور کہہ دیا کہ اس کا رشتہ کامیاب ہوگا یا نہیں کامیاب ہوگا۔مجھے بھی بعض شکایات آتی ہیں۔بعض جگہوں پر بعض عورتیں اور مرد پانچ گھنٹے، چھ گھنٹے میں استخارہ کر کے جواب دے دیتے ہیں۔اپنی مرضی کے رشتے کروا دیتے ہیں اور اس کے بعد جب رشتے ٹوٹ جاتے ہیں تو کہتے ہیں یہ تمہارا قصور ہے ہمارا استخارہ ٹھیک تھا۔یہ صرف اس لئے ہے کہ خود دعا ئیں نہیں کرتے۔خود توجہ نہیں۔خود نمازوں کی پابندی نہیں اور ایسے لوگوں پر اندھا اعتقاد ہے جنہوں نے کاروبار بنایا ہوا ہے۔احمدیوں کو اس قسم کی چیزوں سے خاص طور پر بچنا چاہئے۔فرماتے ہیں کہ ”پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں سمجھ بوجھ اور عقل رکھنے والوں کو اشارہ فرمایا ہے کہ نبیوں کے کمالات پروردگار عالم کے کمالات کی طرح نہیں ہوتے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں اکیلا ، بے نیاز اور یگانہ ہے۔اس کی ذات اور صفات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔لیکن نبی ایسے نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالی ان کے بچے متبعین میں