خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 531 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 531

خطبات مسرور جلد ششم 531 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 دسمبر 2008 پھر ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَوْ جَعَلْنَاهُ قُرْآناً أَعْجَمِيًّا لَّقَالُوْا لَوْلَا فُصِّلَتْ ايتُهُ عَ أَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ۔قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ آمَنُوْا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمِّى أُوْلَئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ ( حم سجدہ:45 ) اور اگر ہم نے اسے عجمی یعنی غیر فصیح قرآن بنایا ہوتا تو وہ ضرور کہتے کہ کیوں نہ آیات کھلی کھلی یعنی قابل فہم بنائی گئیں۔کیا عجمی اور عربی برابر ہو سکتے ہیں۔تو کہہ دے کہ وہ تو ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ہدایت اور شفاء ہے۔اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بہرا پن ہے جس کے نتیجہ میں وہ ان پر مخفی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ایک دُور کے مکان سے بلایا جاتا ہے۔اس سے پہلے کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بعض ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں ایسی باتیں تلاش کرتے رہتے ہیں تا کہ اس کے ذریعہ سے دوسروں کو الجھاتے رہیں ، دُور ہٹاتے رہیں اور اس تعلیم سے دُور رکھیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو تو ہم دیکھ لیں گے کہ ان کے ساتھ کیا کرنا ہے۔اس دنیا میں جو چاہو کرلو لیکن یاد رکھو کہ یہ قرآن بڑی عزت والی کتاب ہے اور اس کے ساتھ استہزاء کر کے تم اپنی تباہی کے سامان کر رہے ہو۔تمہارے استہزاء اور تمہاری باتوں سے تو اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ اس کے اندر ایک کچی تعلیم ہے۔جھوٹ نہ اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اسے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔اور جو بھی سعید فطرت ہوگا وہ بہر حال اس سے فیض پائے گا۔اور جہاں تک بدفطر توں کا تعلق ہے انہوں نے تو اعتراض کرتے رہنا ہے۔یہ اعتراض کہ یہ عربی پہ کیوں اترا اور مجھی پر کیوں اترا۔اگر دوسری زبان میں اتارتے تو کہتے کہ عربی میں کیوں نہیں اتارا۔جو کھلی کھلی آیات ہو تیں سمجھ آتیں۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں پھر فرمایا کہ یہ تو ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لانے والے ہیں جنہوں نے اعتراض کرنے ہیں وہ تو بہرے ہیں اور اس وجہ سے اس تعلیم کی خوبصورتی کوسن ہی نہیں سکتے ، ان کو اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا۔ایک تو ان میں بہرہ پن ہے، دوسرے انہوں نے دُور کھڑے ہو کر اس بہرے پن میں اور بھی اضافہ کر لیا اور وہ اس کے قریب بھی نہیں ہونا چاہتے تا کہ ان کو سمجھ آ جائے۔دُور کھڑے ہو کر بس اعتراض کئے جاتے ہیں اور اس بات پر غور کرنا نہیں چاہتے۔یہی حال آج کل کے قرآن کریم پر ان اعتراض کرنے والوں کا ہے جو مغرب میں ہیں کہ بغیر سمجھے جیسا کہ پہلے بھی میں کہہ آیا ہوں اس پر اعتراض کئے چلے جا رہے ہیں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔کئی ایسے ہیں، بلکہ ہندوستان کے سفر میں مجھے ایک عیسائی ملے۔انہوں نے مجھے کہا کہ میں قرآن کریم میں سے بعض باتیں تلاش کرتا ہوں اور میں اس کی اسی طرح عزت کرتا ہوں جس طرح بائیبل کی۔بہر حال ان کے کچھ سیاسی بیان بھی ہوتے ہیں لیکن کئی باتیں انہوں نے مجھے بتائیں جو انہوں نے قرآن کریم سے سیکھیں۔جو سیکھنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ ان کو پھر ہدایت بھی دے دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا کی اکثریت کو عقل دے کہ وہ اس خوبصورت تعلیم کو سمجھنے والے ہوں اور اپنی دنیا و عاقبت سنوار سکیں۔