خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 502 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 502

خطبات مسرور جلد ششم 502 خطبہ جمعہ فرموده 12 دسمبر 2008 بہر حال کہنے کا یہ مقصد ہے کہ یہ شہر بڑی پرانی مذہبی تاریخ رکھتا ہے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسیح محمدی کے حواریوں کے ذریعہ، آپ کے صحابہ کے ذریعہ اس علاقہ میں جو احمدیت آئی ہے تو وہ بھی اللہ کے فضل سے ترقی کر رہی ہے۔اگلی نسلیں بھی ایمان اور اخلاص میں ترقی کر رہی ہیں۔جماعت کو اس سال عین اس علاقہ میں مسجد بنانے کی بھی توفیق ملی ہے جہاں مسیح موسوی کے حواری نے اپنی جگہ بنائی تھی اور جیسا کہ میں نے کہا پھر یہاں عیسائیت پھیلی اور یہاں کا بہت بڑا چرچ ہے۔اللہ تعالیٰ اب احمدیوں کو توفیق دے رہا ہے کہ اس مسجد کی برکت سے پہلے سے بڑھ کر مسیح محمدی کے پیغام کو اس علاقہ میں پھیلا ئیں۔اللہ کرے کہ ان کو اس کی توفیق ملتی چلی جائے۔کیونکہ اب ان لوگوں کی نجات اس باطل عقیدے کو چھوڑ کر آنحضرت ﷺ کی غلامی میں آنے میں ہے اور خدائے واحد کے آگے جھکنے میں ہے، بجائے اس کے کہ بندے کو خدا بنایا جائے۔تو بہر حال یہ ہے چنائی کی مختصر تاریخ۔یہاں سے جیسا کہ میں نے بتایا اگلا سفر کیرالہ کے شہر کالی کٹ کا تھا۔یہ وہ شہر ہے جہاں حضرت تھو ماسب سے پہلے آئے تھے کیونکہ یہاں یہودیوں کی کافی بڑی تعداد آباد تھی اور یہ لوگ مالا باری یہودی کہلاتے تھے۔ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت سلیمان کے زمانہ سے تجارتی قافلے یہاں آیا کرتے تھے اور ان کے ساتھ پھر یہودیت بھی یہاں آئی ہو گی۔بہر حال تھو ما حواری جب یہاں آئے تو یہیں انہوں نے اپنا زندگی کا اکثر وقت گزارا اور یہودیوں کو عیسائیت کا پیغام پہنچاتے رہے۔اکثریت نے پیغام کو قبول کیا۔جو لوگ حضرت تھوما کے ذریعہ سے اس علاقہ میں عیسائی ہوتے نصرانی یا تھو مائی عیسائی کہلاتے ہیں اور بہت سارے ان میں سے ابھی بھی ہیں جو موحد ہیں۔بہر حال یہ تو اس علاقے میں یہودیت اور عیسائیت کی مختصرسی تاریخ ہے۔ہندو یہاں بہت بڑی اکثریت میں ہیں اور مسلمان بھی کافی تعداد میں ہیں۔لیکن یہ اس علاقہ پر اللہ کا خاص فضل ہے کہ آپس میں سب مل جل کر رہتے ہیں۔اگر ملک کے ایک حصہ میں مذہبی فساد ہوتا بھی ہے تو کیرالہ والوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، ان کو کوئی پتہ نہیں لگتا۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ گھانا میں ایک ہمارا دوست کیرالہ کا رہنے والا تھا تو میں ایک دن دفتر میں گیا تو وہاں وہ بھی تھا۔ایک گھا نین آ گیا تو گھا نین نے مجھ سے پوچھا کہ تم انڈین ہو۔میں نے بتایا کہ نہیں میں پاکستانی ہوں۔تو وہ پاکستانی اور انڈین میں فرق پوچھنے لگا۔تو میرے سے پہلے ہی کیرالہ کا جو عیسائی انجینئر تھا وہ کہتا تھا کہ ہمارا کوئی فرق نہیں صرف سرحدوں کا جغرافیائی فرق ہے یا پھر کچھ فرق ہمارے لیڈروں نے پیدا کر دیا ہے۔تو بہر حال ان لوگوں کی سوچ بڑی مثبت سوچ ہے۔ان میں برداشت بھی بہت زیادہ ہے۔وہ کچھ فرق رکھنا نہیں چاہتے۔اس علاقہ میں جو عرب تجارتی قافلے آتے تھے ان کے ذریعہ سے اسلام بھی پہنچا ہے۔ان کی تاریخ یہی بیان کرتی ہے کہ جب تجارتی قافلے یہاں آیا کرتے تھے تو ان کے ساتھ خلافت راشدہ کے دور میں حضرت مالک بن