خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 478
خطبات مسرور جلد ششم 478 خطبه جمعه فرموده 14 نومبر 2008 کی خاطر تیسری شادی کر لی۔اس سے پھر تین چار بیٹیاں پیدا ہوگئیں۔پھر چوتھی شادی کر لی ، اس سے بھی اللہ تعالیٰ نے بیٹیاں ہی دیں۔آخر جو پہلی بیوی تھی جس سے بیٹیاں پیدا ہورہی تھیں، پہلا بیٹا جو پیدا ہوا اسی بیوی سے پیدا ہوا۔تو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے جسے چاہتا ہے جس طرح چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔پس اگر اولاد مانگنی ہے، لڑ کے مانگنے ہیں تو آپس میں لڑ کر گھروں میں بے چینیاں پیدا کرنے کی بجائے تقویٰ پر قائم ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مانگنی چاہئے اور نیک اولاد کی دعا مانگنی چاہئے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں انبیاء کے ذکر میں دعا سکھائی ہے۔ایک جگہ فرمایا کہ رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّلِحِيْنَ (الصقت: 101) کہ اے میرے رب ! مجھے صالحین میں سے عطا کر۔یعنی صالح اولاد عطا کر۔ایک جگہ یہ دعا سکھائی کہ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً (سورۃ آل عمران : 39) اے میرے رب ! تو مجھے اپنی جناب سے پاک اولا د بخش۔پس ہمیشہ ایسی اولاد کی دعا کرنی چاہئے یا خواہش کرنی چاہئے جو پاک ہو اور صالحین میں سے ہو اور ہمیشہ اس کے قرۃ العین ہونے کی دعا مانگنی چاہئے۔میرے پاس جو بعض لوگ لڑکے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں تو میں ان کو ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ نیک اور صحت مند اولاد مانگو۔بعض دفعہ لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ ماں باپ کی خدمت کرنے والیاں ہوتی ہیں اور نیک ہوتی ہیں۔ماں باپ کے لئے نیک نامی کا باعث بنتی ہیں۔جبکہ لڑ کے بعض اوقات بدنامی اور پریشانی کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔پس ایک مومن کی یہی نشانی ہے کہ اولاد مانگے نیک اور صالح اور پھر مستقل اس کے لئے دعا کہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہو۔ورنہ ایسی اولاد کا کیا فائدہ جو بدنامی کا موجب بن رہی ہو۔کئی خطوط میرے پاس آتے ہیں جس میں اولاد کے بگڑنے کی وجہ سے فکر مندی کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے۔لوگ ملتے بھی ہیں تو اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔پس اصل چیز دل کا سکون ہے اور اولادوں کا نیک اور صالح ہونا ہے۔اگر یہ نہیں تو پھر اولاد بے فائدہ ہے۔صالحین کی تعریف جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہے وہ میں پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ صالحین کے اندر کسی قسم کی روحانی مرض نہیں ہوتی اور کوئی مادہ فساد کا نہیں ہوتا۔پس یہ معیار ہے جس کے حصول کے لئے ہمیں اپنی اولاد کے لئے دعا مانگنی چاہئے اور خود بھی اس پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ آئندہ نسلوں میں بھی نیکی کی جاگ لگتی چلی جائے اور ذریت طیبہ پیدا ہوتی رہے جونسل در نسل اپنے آبا ؤ اجداد کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کے سامان پیدا کرتی چلی جائے اور جماعت کے لئے ، خاندان کے لئے نیک نامی کا باعث ہواور جیسا کہ میں نے کہا یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ہم اپنی حالتوں کی طرف بھی نظر رکھنے والے اور توجہ دینے والے نہیں بنتے۔ہم خود بھی صالحین میں شامل ہونے اور تقویٰ پر قدم مارنے والے نہیں بنتے۔پس اس چیز کو پکڑنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 49 مورخہ 5 دسمبر تا 11 دسمبر 2008ء صفحہ 5 تا صفحہ 7)