خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 463
خطبات مسرور جلد ششم 463 خطبہ جمعہ فرموده 7 نومبر 2008 کرنے والے بنا چاہئے۔اس ارشاد میں اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: ” وہ خالص اور چمکتی ہوئی تو حید جو ہر ایک قسم کی شرک کی آمیزش سے خالی ہے جواب نابود ہو چکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائی پودا لگا دوں“۔لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 180) تو یہ آپ کا کام تھا کہ وہ خالص تو حید جو دنیا سے ختم ہوگئی ہے اس کو نہ صرف قائم کرنا بلکہ اس کا ایسا پودا لگا نا جو کبھی سو کھنے والا نہ ہو، ہمیشہ ہرا بھرا ر ہے۔اور ہم وہ لوگ ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم آپ کی جماعت میں شامل ہوئے۔ہم اس پودے کی شاخیں ہیں۔جب تک ہم سرسبز شاخیں رہیں گی اس کا حق ادا کرتی رہیں گی تو حید کا حق ادا کرتے رہیں گے ہم اس پودے سے جڑے رہیں گے۔ورنہ سوکھے پتوں کی طرح اور سوکھی ٹہنیوں کی طرح علیحدہ ہو جائیں گے۔پس ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آ کر اپنوں کو بھی اور غیروں کو بھی اپنے قول وفعل سے یہ ثابت کروانا ہے کہ ہم خدائے واحد کی عبادت کرنے کے لئے مسجدیں بنانے والے ہیں۔اور شرک کے خاتمے کے لئے ہر قربانی کرنے والے ہیں تا کہ دنیا سے ہمیشہ کے لئے کفر والحاد ختم ہو جائے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مساجد بنانا ان کا کام نہیں جو مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے والے ہوں۔پس آج ہم میں سے ہر احمدی کا یہ نعرہ ہونا چاہئے اور صرف نعرہ نہیں اس کے ہر قول اور عمل سے اس بات کا اظہار ہونا چاہئے کہ وہ محبتوں کا علمبر دار ہے۔وہ دلوں کو جوڑنے والا ہے۔وہ فتنہ وفساد کو دنیا سے عمومی طور پر ختم کرنے والا ہے اور خاص طور پر اپنے معاشرے سے اپنے اندر سے ختم کرنے والا ہے اور وہ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کا عملی اظہار کرنے والا ہے تبھی یہ مسجد ہمارے اس مقصد کو پورا کرنے والی ہوگی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے تبھی ہماری تبلیغ دوسروں کے دلوں پر اثر کرنے والی ہوگی۔تبھی ہم اپنے ان مسلمان بھائیوں کے بھی دل جیتنے والے ہوں گے جن کو ان کی لاعلمی اور غلط راہنمائی نے شکوک وشبہات میں ڈالا ہوا ہے۔کیونکہ اب اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق آپ کے عاشق صادق اور مسیح محمدی نے ہی تمام مسلمانوں کو امت واحدہ بنانے کا کردار ادا کرنا ہے۔اب اس مسیح محمدی کی جماعت کی ذمہ داری ہے کہ مومنوں کا حقیقی کردار ادا کریں۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حقیقی تعلیم کو اپنے پر لاگو کریں۔تقویٰ پر قدم مارنے والے ہوں اور اس مسجد کو اس مسجد کے نمونے پر قائم کر دیں جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کی بنیاد اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا پر رکھی گئی تھی۔ورنہ جو مسجد بغیر تقویٰ کے اور تقویٰ کے مقاصد پورا نہ کرتے ہوئے تعمیر کی جائے وہ آگ کے کنارے پر بننے والی مسجد ہے۔ایسی عمارت ہے جو آگ کے کنارے پر بنائی گئی ہے۔