خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 462 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 462

462 خطبه جمعه فرموده 7 نومبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم نے آنا تھا اور دنیا کی تکلیفیں دُور کرنے کے لئے آنا تھا وہ آچکا اور ہم اس کی جماعت کے فرد ہیں۔ہم اُس کو ماننے والے ہیں۔ہم وہ ہیں جو تکلیف کا تو سوال نہیں محبت اور پیار کی شمعیں دلوں میں جلانے والے ہیں۔ہم اُس مسیح محمدی کے ماننے والے ہیں جس نے اعلان کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے تاکہ سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں۔لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 180) پس ہماری مساجد اس تعلیم کا پرچار کرنے والی ہوں جو پیار محبت اور علم کی بنیاد ڈالنے والی ہے۔ہم تو ہر حال میں صلح کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے دنیا کو امن دینے کے خواہش مند ہیں۔ہم نے تو دنیا کی تکلیفیں دور کرنے کے لئے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں اور ہمیشہ قربانیاں دیتے چلے جائیں گے۔آج دنیا میں جماعت احمدیہ کا تعارف ہی دنیا کی تکلیفوں کو دُور کرنے میں صف اول میں رہنے والوں کے حوالے سے ہے۔جو لوگ بھی ہمیں جانتے ہیں ، وہ اسی لئے جانتے ہیں کہ یہ ایک امن پسند جماعت ہے۔بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ہم سب سے آگے ہیں کیونکہ ہماری خدمات بے لوث ہیں اور جہاں بھی موقع ملتا ہے بغیر امتیاز کے ہر جگہ پر ہیں۔افریقہ میں ہیومینیٹی فرسٹ کے ذریعہ سے خدمت کر رہے ہیں۔جزائر میں خدمت کر رہے ہیں۔ساؤتھ امریکہ میں خدمت کر رہے ہیں۔پھر احمدیوں کی انجینئر زایسوسی ایشن ہے۔UK والے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں افریقہ میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی بہت کام کر رہے ہیں۔تو ہر جگہ ہمارا کام تو خدمت کرنا ہے تاکہ لوگوں کی تکلیفیں دور ہوں۔پینے کے لئے جہاں پانی مہیا نہیں وہاں پینے کے لئے پانی مہیا کرتے ہیں۔غرض بے شمار طرح کی خدمتیں ہیں جو جماعت احمد یہ انجام دے رہی ہے۔پھر جو میں نے آیات پڑھی تھیں ان میں ایک برائی اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کی جو خدا تعالیٰ کی خاطر نہ بنائی جائے یہ بیان فرمائی کہ کفر پھیلانے والی ہے۔جبکہ ہماری مساجد تو خدائے واحد کی عبادت کا حق ادا کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ہماری مساجد تو اپنے مقصد پیدائش کا حق ادا کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں اور وہ مقصد ہے ایک خدا کی عبادت کرنا۔اس علاقہ میں مسلمانوں کی بھی کافی آبادی ہے۔میں نے جیسے ذکر کیا ان کی بہت ساری مساجد بھی ہیں ان میں سے ایک طبقہ کو تو ہماری مسجد کا بننا پسند نہیں آیا اس لئے تعمیر کے دوران بعض لوگوں نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔اس کے علاوہ بعض غیر مسلموں نے بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔لیکن ان کے یہ فعل اور عمل ہمیں اپنے خدا کی عبادت کا پہلے سے بڑھ کر حق ادا کرنے والا بنانے والے ہونے چاہئیں۔اپنے خدا سے تعلق میں پہلے سے بڑھ کر ہماری کوشش ہونی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اس پر عمل کرنے کی کوشش