خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 395 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 395

خطبات مسرور جلد ششم 395 خطبه جمعه فرمودہ 26 ستمبر 2008 بر پا ہوگی۔مقر رفرشتے آسمان اور زمین اور ہوائیں اور پہاڑ اور سمندر، اس دن سے خوف کھاتے ہیں۔(سنن ابن ماجہ۔کتاب اقامة الصلوۃ وستة - باب فی فضل الجمعۃ حدیث نمبر 1084) اب یہ تمام حدیثیں جمعہ کی اہمیت واضح کر رہی ہیں۔اس طرف توجہ دلا رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ (الجمعة : 10) یہ اس دن کی خاص برکات کی وجہ سے ہے۔یہ نہ سمجھو کہ تمہاری تجارتیں ، تمہارے کا روبارہ تمہارے لئے بہتر ہیں۔نہیں، بلکہ اصل خیر تمہارے لئے جمعہ کے دن کی عبادت میں ہے۔اب یہ جو حدیث میں آیا کہ نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے تو پہلی نیکی تو اس اطاعت میں ہے جو ایک مومن اللہ تعالیٰ کے حکم پر کرتے ہوئے اپنے تمام دنیاوی دھندے چھوڑ کر تجارتیں چھوڑ کر خاص طور پر مسجد میں جمعہ کی ادائیگی کے لئے آتا ہے۔اور جمعہ کی نماز بھی وہ نماز ہے جو عموماً ظہر کی نماز سے لمبی ہوتی ہے اور پھر خطبہ بھی دیا جاتا ہے۔کاروبار میں مصروف انسان بظاہر یہ خیال کرتا ہے کہ اتنا لمبا عرصہ کاروبار سے باہر رہنے کی وجہ سے میرا نقصان ہوگا۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری اطاعت کی وجہ سے تمہارا نقصان نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَقْهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَائِزُوْنَ ( النور : 53) یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کا تقویٰ اختیار کریں وہ بامراد ہو جاتے ہیں۔پس اللہ فرماتا ہے کہ عام حالات میں بھی اطاعت کرنے والے بامراد ہوتے ہیں۔تو جمعہ کے دن تو یہ اطاعت اتنی زیادہ برکات لانے والی ہے کہ اس کا حساب شمار ہی نہیں کیا جا سکتا۔اللہ کے ذکر کے لئے وہی آئے گا جو اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت دل میں رکھتا ہوگا، تقویٰ پر قدم مارنے والا ہوگا اور ایسا انسان جو اس معیار پر قائم ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے کاروبار چھوڑ کر آئے وہ بھلا اپنی مرادوں کو حاصل کئے بغیر کس طرح لوٹا یا جاسکتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایسا خدا کا خوف رکھنے والا جب خدا کے حضور عبادت کے لئے حاضر ہوتا ہے تو کئی گنا اجر پاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (الجمعة : 10) ہر اس انسان کو جو اللہ تعالی کو تمام قدرتوں اور طاقتوں کا مالک سمجھتا ہے۔خدا تعالیٰ کو رب العالمین سمجھتا ہے تسلی دلانے والا ہونا چاہئے۔اللہ تعالی فرماتا ہے تمہیں علم ہی نہیں کہ تم کتنی برکتیں نماز پر آکر سمیٹتے ہو۔اگر تم جانتے ہو کہ کتنی برکتیں تم جمعہ سے سمیٹ رہے ہو تو رمضان کے آخری جمعہ یا رمضان کے جمعہ پر ہی بس نہ کرتے بلکہ جمعہ کے بعد جمعہ کا انتظار رہتا۔اور پھر مسجد میں آنے کے لئے جلدی کرتے تا کہ اونٹ کی قربانی کا ثواب لو، یا گائے کی قربانی کا ثواب لو، یا یہ کوشش تو کرتے کہ کچھ نہ کچھ ثواب فرشتوں کا رجسٹر بند ہونے سے پہلے فرشتوں کے رجسٹر میں لکھا جائے۔اُس گھڑی اور لمحے کی تلاش میں دعاؤں میں مشغول رہتے۔ذکر الہی اور جمعہ کی نماز کے مقابلہ پر ہر دنیاوی چیز کو ثانوی حیثیت