خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 362
خطبات مسرور جلد ششم 362 خطبہ جمعہ فرموده 5 ستمبر 2008 ایک دفعہ ہر بات سے بے پرواہ ایک عورت ادھر سے اُدھر بھاگتی پھر رہی تھی اور جو بچہ دیکھتی تھی اسے اپنے سینے سے لگا لیتی تھی اور پیار کر کے اس کو دیکھ کر چھوڑ دیتی تھی۔آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ اُس عورت کا یہ عمل دیکھ رہے تھے وہ عورت اپنے گمشدہ بچے کی تلاش میں تھی۔آخر جب اسے بچل گیا تو سینے سے لگا کر وہیں پر بیٹھ گئی اور پیار کرنے لگی اور ایک سکون اس کے چہرے پر تھا۔آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھ کر اپنے صحابہ سے فرمایا کہ جس طرح یہ عورت بے چینی سے اپنے بچے کی تلاش کر رہی تھی اور تمام قسم کے خطرات سے لا پرواہ ہو کر اس کی تلاش میں تھی کیونکہ وہ جگہ میدان جنگ تھی اور پھر جب بچہ مل گیا تو پر سکون ہو کر اسے لاڈ کرنے لگ گئی اور وہیں بیٹھ گی ، اور خوشی سے بے حال ہوئی جا رہی تھی۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنی طرف آنے اور نیکیوں کی راہ اختیار کرنے سے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ ماں خوش ہو رہی ہے۔پس جب ایسا پیار کرنے والا ہمارا خدا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم اُس کی طرف آنے کے لئے اس کے احکامات پر عمل نہ کریں۔ایک ماں تو ایک بچے کی چند عارضی ضروریات کا خیال رکھنے والی ہے اور وہ بھی اپنے محدود وسائل کے لحاظ سے۔ہمارا خدا جو رب العالمین ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے، جو تمام کائنات کا مالک ہے، جو لامحدود خزانوں اور طاقتوں کا مالک ہے ، وہ جب اپنے بندے سے خوش ہو کر اُسے اپنے ساتھ چمٹاتا ہے تو پھر وہ کیا کچھ نہیں کر سکتا یا نہیں کرتا۔پس یہ روزے اس کا قرب پانے کا ذریعہ ہیں اور دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ ہیں۔پس ان دنوں میں ہمارا کام ہے کہ پہلے سے بڑھ کر چلا چلا کر ، گڑ گڑا کر اپنے رب کو پکاریں۔لیکن یہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ صرف اپنے ذاتی مفاد اور مقاصد کے لئے بوقت ضرورت اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے اسے نہیں پکارنا بلکہ اپنی پکار میں اس کی رضا کو شامل رکھنا ہے۔اور اس کی رضا کیا ہے؟ فرماتا ہے فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا ہی۔پس چاہئے کہ وہ میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں، اللہ تعالیٰ کی بات پر لبیک کہنا اس کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے اور ایمان لانا، ایمان میں ترقی کرنا ہے۔مومن کا ہر قدم ترقی کی طرف بڑھنا چاہئے۔ایک جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ ( النساء: 137) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ اور رسول پر ایمان لاؤ۔پس صرف منہ سے ایمان لانا، یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لائے کافی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارا اللہ اور رسول پر ایمان بڑھتا چلا جائے۔ہر روز ترقی کی طرف قدم اٹھتا چلا جائے۔اور جب یہ صورت ہو گی تب ہی کامل ایمان کی طرف بڑھنے والا ایک مومن کہلا سکتا ہے اور اس کے لئے مسلسل مجاہدے کی ضرورت ہے اور اسی لئے خدا تعالیٰ نے عبادتوں کا بھی حکم دیا ہے تا کہ یہ مجاہدہ جاری رہے اور تقویٰ