خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 330
خطبات مسرور جلد ششم 330 خطبه جمعه فرمود ه 15 اگست 2008 عطا کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ تم عبرت حاصل کرو۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وہ طریق مزید کھول کر بتا دیئے جس سے انسان خدا تعالیٰ کا حق بھی ادا کر سکتا ہے اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے بندوں کے حق بھی ادا کر سکتا ہے اور اپنے نفس کا تزکیہ بھی کر سکتا ہے۔اور یہی مطلب ہے خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے کا۔اس آیت کے پہلے حصہ کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ پہلے طور پر اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ تم اپنے خالق کے ساتھ اس کی اطاعت میں عدل کا طریق مرعی رکھو۔یعنی اس کا لحاظ رکھو۔” ظالم نہ بنو۔پس جیسا کہ در حقیقت بجز اس کے کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں، کوئی بھی محبت کے لائق نہیں، کوئی بھی تو کل کے لائق نہیں کیونکہ بوجہ خالقیت اور قیومیت اور ربوبیت خاصہ ہر یک حق اسی کا ہے“۔وہی خالق ہے ہمارا کل کائنات کا خالق ہے، اس میں رہنے والی ہر چیز کا خالق ہے۔اس لئے وہی اس لائق ہے کہ اُسی پر توکل کیا جائے۔فرمایا اور قیومیت اسی کی ہے وہ قائم ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔جس چیز کو اس نے پیدا کیا اجل مسمی تک اس کی زندگی رکھتا ہے۔ربوبیت اسی کی ہے۔وہی ہے جس نے ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہی ہمارے لئے انتظامات کر دیئے اور ہماری زندگی کو سہولت سے گزارنے کے بھی انتظامات فرما دیئے ، تمام چیزیں اس نے مہیا فرما دیں۔تو فرمایا کہ تو کل کے لائق اور کوئی چیز نہیں کیونکہ بوجہ خالقیت اور قیومیت اور ربوبیت کے خاصہ کے ہر یک حق اسی کا ہے۔اسی طرح تم بھی اس کے ساتھ کسی کو اس کی پرستش میں اور اس کی محبت میں اور اس کی ربوبیت میں شریک مت کرو۔اگر تم نے اس قدر کر لیا تو یہ عدل ہے جس کی رعایت تم پر فرض تھی۔اگر یہ سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ میرا رب ہے، اللہ تعالیٰ سے محبت سب سے زیادہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرنی تو یہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں عدل ہے جو تم نے قائم کر لیا۔پھر اگر اس پر ترقی کرنا چاہو تو احسان کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تم اس کی عظمتوں کے ایسے قائل ہو جاؤ اور اس کے آگے اپنی پرستشوں میں ایسے متأدب بن جاؤ اور اس کی محبت میں ایسے کھوئے جاؤ کہ گویا تم نے اس کی عظمت اور جلال اور اس کے حسن لا زوال کو دیکھ لیا ہے۔عدل سے ترقی کرو گے تو پھر احسان کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا ادراک حاصل کرنے کی کوشش کر و فہم حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اس کو پھر پکڑتے ہوئے ، اس کی محبت میں کھو جاؤ۔اس کے احسانوں کا ذکر ہر وقت تمہاری زبان پر رہے۔بعد اس کے اِيْتَائِ ذِی القربی کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تمہاری پرستش اور تمہاری محبت اور تمہاری فرمانبرداری سے بالکل تکلف اور تصنع دور ہو جائے اور تم اس کے لئے ایسے جگری تعلق سے یاد کرو جیسے مثلاً تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو اور تمہاری محبت اس سے ایسی ہو جائے کہ جیسے مثلاً بچہ اپنی پیاری ماں سے محبت کرتا ہے“۔