خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 305 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 305

305 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 2008 پھر صفائی کا خیال رکھیں۔آپ کو جو پروگرام یہاں چھپا ہے اس میں جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں بھی ان سب باتوں کا ذکر ہے ان کو غور سے پڑھیں۔عموماً ہدایات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور یہ عمومی حالت ہے۔جہاز پر بھی جب ہم سفر کرتے ہیں تو عموماً جو زیادہ سفر کرنے والے لوگ ہیں وہ جو سفر کی اناؤنسمنٹ (Announcement) ہوتی ہے،سفر کی ہدایات کی اگر ایسی ہنگامی صورت ہو جائے تو یہ یہ کرنا ہے ، عموماً اس کو ایک رسم سمجھ کے نظر انداز کر دیتے ہیں۔لیکن ان کو غور سے سننا چاہئے۔میں تو ہمیشہ ہر سفر میں غور سے دیکھتا ہوں۔ہر دفعہ کوئی نہ کوئی بات نئے زاویے سے سامنے آ جاتی ہے بلکہ میں تو اس کے بعد ان کا کارڈ بھی پڑھتا ہوں۔بعض مسافر شاید اس لئے نہ سننا چاہتے ہوں کہ وہم کی وجہ سے ان کی طبیعت نہ خراب ہو جائے ، اس لئے وہم کرنے کی بجائے اور خوفزدہ ہونے کی بجائے یہ ہدایات سن کر اپنے لئے بھی، مسافروں کو تو ویسے بھی سفر میں دعائیں کرتے رہنا چاہئے ، اور باقی مسافروں کے لئے بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔ان کو بلکہ ایسے حالات میں موقع مل جاتا ہے۔گزشتہ دنوں ہمارے کچھ عزیز امریکہ میں دریا کی سیر کے لئے گئے۔وہاں دریا میں چٹانیں اور تیز لہریں بھی ہیں۔ان ملکوں میں ہنگامی تقاضے کی وجہ سے وہ بڑی ہدایات دیتے ہیں۔تو عزیزہ نے مجھے بتایا کہ جب وہ ہدایات دے رہے تھے تو ہم سرسری طور پر ان کو کانوں سے سن رہے تھے، ان ہدایات کو نہیں دیکھا اور اتفاق ایسا ہوا کہ کشتی کو حادثہ پیش آ گیا اور کشتی الٹ گئی۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا سب بچ گئے لیکن اس وقت کہتی ہیں ہمیں ہر ہدایت یاد آنی شروع ہوئی۔جس کو جو بھی ہدایت یاد تھی اس نے اس پر عمل کرنا شروع کیا۔تو ہدایات فائدہ کے لئے ہوتی ہیں اور ہر موقع کے لئے جو ہدایات دی جاتی ہیں وہ اس موقع کی مناسبت سے فائدہ اٹھانے کے لئے ہوتی ہیں اس لئے ان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ ہم جلسہ پر آتے رہے ہیں، سرسری طور پر بعض ہدایات دیکھتے ہیں کہ پچھلے 24 سال سے یا 25 سال سے یا سو سال سے ہم یہ ہدایات سن رہے ہیں کیا فرق پڑتا ہے۔فرق یہ پڑتا ہے کہ پھر بے احتیاطی کی عادت پیدا ہو جاتی ہے اور بے احتیاطی سے پھر انسان نقصان اٹھاتا ہے۔پس ہدایات جہاں کی بھی ہوں ہمیشہ غور سے دیکھنی چاہئیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تو ان جلسہ کی ہدایات کو بھی غور سے دیکھیں اور خاص طور پر سیکورٹی ،صفائی اور ٹرانسپورٹ کے انتظامات اور سلام کو رواج دینا اور نمازوں کی باجماعت ادائیگی کی طرف خاص توجہ رکھیں۔اللہ تعالیٰ اس جلسے میں شامل ہونے والوں کو اپنی حفاظت میں رکھے اور ہر لحاظ سے یہاں جلسہ میں شامل ہونا سب کے لئے بابرکت ہو۔دعاؤں کی توفیق ملتی رہے۔انتظامیہ سے بھی ہر لحاظ سے مکمل تعاون کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ سب کو تو فیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 15 شماره 33 مورخہ 15 تا 21 اگست 2008ءصفحہ 5 تا صفحه 8)