خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 304
خطبات مسرور جلد ششم 304 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 2008 ایک احمدی مہمان جب جلسہ سالانہ پر مہمان بن کر آتا ہے تو اس کا مقصد مہمان نوازی کروانا نہیں ہوتا بلکہ وہ طریق سیکھنا ہوتا ہے جس سے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کر سکے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کر سکے۔اور اگر ان باتوں کا علم پہلے سے ہے، حقوق ادا کرنے والا ہے، نہ صرف علم ہے بلکہ کرنے والا ہے تو اس میں جلسے کی برکت سے مزید جلا پیدا کر سکے۔اور اس سے بھی بڑھ کر اجتماعی طور پر کی گئی دعاؤں سے حصہ لینے والا بن کر پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والا بن سکے۔پس ان دنوں میں نمازوں اور دعاؤں پر زور دیں، نوافل کی ادائیگی کی طرف توجہ دیں۔جلسہ کے ماحول میں بھی اور اس سے باہر اپنے ماحول میں بھی سلام کو رواج دیں۔پیار ومحبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کریں تا کہ ان دعاؤں سے بھی حصہ پانے والے ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسے میں شامل ہونے والوں کے لئے کی ہیں اور جو بھی ان کے حصول کی نیک نیتی سے خواہش کرے گا اور اس کے لئے کوشش کرے گا تو ہمیشہ ہر ملک کے جلسے میں شامل ہونے والوں کو یہ دعا ئیں فیض پہنچاتی رہتی ہیں، یہاں بھی فیض پہنچائیں گی۔جماعت کی ترقی کی ضمانت جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی جماعت کے لئے کی گئی دعاؤں کی قبولیت کی ضمانت بھی اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دی۔اور اصل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان دعاؤں کے پیچھے وہ دعائیں بھی کام کر رہی ہیں بلکہ وہ دعائیں ہی کام کر رہی ہیں جو آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کے ان افراد کے لئے کی ہیں جو آپ اکے عاشق صادق کی جماعت میں شامل ہوئے۔پس ان دعاؤں سے حصہ دار بننا اب ہمارے اعمال پر منحصر ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔انتظامی طور پر بھی چند باتیں کرنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے یہ بات یاد رکھیں کہ ہر شخص اپنے ماحول پر نظر رکھے۔جتنی تعداد بڑھ رہی ہے جلسے میں آنے والوں کی ، اور اس سال خاص طور پر حالات کی وجہ سے، حالات اور اپنے ماحول پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔کوئی اجنبی مشکوک چہرہ اگر آپ دیکھیں تو فوراً انتظامیہ کو بتا ئیں۔جلسہ گاہ میں بیٹھے ہوئے اپنے اردگر دنظر رکھیں۔کوئی شخص اگر کسی جگہ اپنی کوئی چیز چھوڑ کر اٹھتا ہے تو فوراً اس کو توجہ دلائیں۔اگر کوئی چیز بیگ یا لفافے وغیرہ، کوئی چیز ہو، پڑی ہوئی دیکھیں تو انتظامیہ کو توجہ دلائیں۔سیکیورٹی والے بھی خاص طور پر اس پر نظر رکھیں۔خاص طور پر خواتین کے جلسے میں، ان کی مارکی میں بہت زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔کوئی عورت جلسہ گاہ میں منہ ڈھانک کر نہ بیٹھے۔اگر کوئی ایسے بیٹھی ہو تو سیکیورٹی والوں کا کام ہے ،ساتھ بیٹھے ہوؤں کا کام ہے کہ کوشش کر کے اس کا چہرہ دیکھیں۔