خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 281
خطبات مسرور جلد ششم 281 (29) خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2008 ء بمطابق 18 روف 1387 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جلسہ سے ایک ہفتہ پہلے کا خطبہ عموما میں میزبانوں کو جلسہ پر آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی کے بارے میں توجہ دلانے کے لئے دیتا ہوں۔یہ میز بانی جماعتی نظام کے تحت بھی ہو رہی ہوتی ہے اور ذاتی طور پر بھی احمدی اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں کی کر رہے ہوتے ہیں۔مہمان نوازی ایک ایسا وصف اور خلق ہے جس کے بارے میں قرآن کریم میں بھی ذکر ہے اور انبیاء کا اور ان کے ماننے والوں کا بھی یہ خاصہ ہے۔مہمان نوازی آپس میں محبت اور پیار بڑھانے کا بھی ایک ذریعہ ہے اور غیر کو بھی متاثر کر کے قریب لاتی ہے جس سے تبلیغ کے مزید راستے کھلتے ہیں۔آنحضرت کی سنت میں بھی ہمیں اکرام ضیف کے نظارے نظر آتے ہیں اور آپ کے غلام صادق کی زندگی میں بھی ہمیں اس طرف ایک خاص توجہ نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا بھی تھا کہ لوگ کثرت سے آئیں گے اور ظاہر ہے جب ایک اجنبی جگہ پر لوگ آئیں تو مہمان ہونے کی حالت میں آتے ہیں۔اس لئے یہ بھی الہام ہوا کہ وَلَا تُصَعِرْ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْتَمْ مِنَ النَّاسِ اور جولوگ تیرے پاس آئیں گے، تجھے چاہئے کہ ان سے بدخلقی نہ کرے اور ان کی کثرت کو دیکھ کر تھک نہ جائے۔( تذکرہ صفحہ 40 ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ ) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ مہمان نوازی کرنی تھی کہ انبیاء کا یہ خاصہ ہوتا ہے لیکن اس میں اصل میں ہمارے لئے نصیحت ہے کہ مسیح موعود کے لنگر تو پھیلنے ہیں۔اس لئے وہ مرکز جہاں پر خلیفہ وقت ہو خاص طور پر اور اس کے علاوہ بھی جہاں مسیح موعود کے نام پر لوگ جمع ہوں گے وہاں یہ مہمان نوازی کرنی پڑے گی۔وہاں اس اعلیٰ خلق کو جو مہمان نوازی کا ہے اس کام پر معمور لوگ کبھی پس پشت نہ ڈالیں۔یہ پیشگوئی جماعت کی بہت زیادہ تعداد میں بڑھنے کے بارے میں بھی ہے اور نہ صرف تعداد کے بڑھنے کے بارے میں بلکہ جماعت کے افراد کے اخلاص و وفا میں بڑھنے کے بارے میں بھی ہے کہ مخلصین کا مرکز میں تانتا بندھا رہے گا۔آنے والے لوگ آتے