خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 280
خطبات مسرور جلد ششم 280 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 2008 اللہ کرے کہ وہ دن ہماری زندگیوں میں آئیں جب ہم اسلام کا جھنڈا دنیا کے ہر ملک میں بڑی شان سے لہراتا ہوا دیکھیں۔کینیڈا کے جلسہ کے حوالے سے ایک بات کرنا بھول گیا تھا۔ان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ تھوڑا سا ذکر کیا جائے۔ڈیوٹی دینے والے بھی اور دوسرے لوگوں کا بھی اخلاص و وفا اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیکھنے والا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص میں بڑھ رہے ہیں۔خاص طور پر جس دن میں ٹورانٹو سے روانہ ہوا ہوں لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔پیس ویلج کے کافی وسیع رقبے پر ایسا تھا جیسے تل دھرنے کو جگہ نہیں ہے اور ہر ایک کی جذباتی کیفیت عجیب تھی۔اللہ تعالیٰ سب احمدیوں کو بھی اخلاص و وفا میں بڑھائے اور انہیں اسلامی تعلیم کا صحیح نمونہ بنائے تا کہ ہم وہ پیغام پہنچانے کا حق ادا کرنے والے بنیں جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس دنیا میں لے کر آئے۔حضور انور نے خطبہ ثانیہ میں فرمایا: یہ ایک افسوسناک اطلاع ہے۔آج تقریبا 20 دن ہو گئے ہمارے ایک بہت پرانے واقف زندگی اور مبلغ سلسلہ مولانا نورالدین منیر صاحب جو مشرقی افریقہ میں مبلغ رہے ہیں، نائب وکیل التبشیر بھی رہے ہیں ، تصنیف کے بھی رہے ہیں۔کراچی میں 93 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔یہ ایسٹ افریقہ میں تھے۔55 ء سے 59 ء تک کینیا میں مربی سلسلہ رہے۔ایسٹ افریقہ ٹائمنر کے ایڈیٹر رہے۔پھر ماہنامہ تحریک جدیدر بوہ اور ریویو آف ریلیجنز کے بھی ایڈیٹر رہے۔بڑے علمی آدمی تھے اور تاریخ لجنہ اماء اللہ کی چار جلدوں کا انہوں نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔مختصر تاریخ احمدیت کا بھی انگریزی میں ترجمہ کیا ، مرتب کی۔احکام القرآن کے عنوان سے ان کی کچھ کتب چھپ چکی ہیں۔ان کے تین بیٹے ہیں اور ان کی تدفین وہیں بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی ہے۔ابھی نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ میں ان کی نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے ، درجات بلند فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل خلافت احمدیہ صد سالہ جو بلی نمبر جلد 15 شماره 31-30 مورخہ 25 جولائی تا 7 اگست 2008 صفحہ 23 تا 26)