خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 211 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 211

خطبات مسرور جلد ششم 211 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مئی 2008 مختلف ممالک کی نمائندگی بھی ہو گئی جس میں قادیان اور ربوہ ، ان دونوں بستیوں کے جلسہ سننے والوں کے نظارے ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا میں دکھائے گئے اس نے بھی لوگوں کے دلوں پر ایک خاص قسم کا اثر چھوڑا ہے۔اس بارے میں مجھے احباب وخواتین کے جود لی تاثرات ہیں ان کے خطوط اور فیکسز بھی آنے شروع ہو گئے ہیں۔الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص کیفیت میں اُس دن نہ صرف اُس ہال میں موجود میرے سامنے بیٹھنے والے لوگوں کو لے لیا تھا بلکہ دنیا کے ہر کونے میں جہاں بھی احمدی یہ جلسہ سن رہے تھے خواہ جماعتی انتظام کے تحت یا انفرادی طور پر اپنے گھروں میں یا اپنے خاندانوں میں جو بھی کارروائی سن رہے اور دیکھ رہے تھے جن کو بھی موقع مل رہا تھا سب اس خاص ماحول اور کیفیت سے حصہ لے رہے تھے۔گویا خدا تعالیٰ نے تمام دنیا میں رہنے والے ہر ملک اور قوم کے احمدی کو ایک ایسے تجربے سے گزارا جو انہیں وحدت کی لڑی میں پروئے ہوئے ہے۔یہ ایک منفرد اور روحانی تجربہ تھا اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کا ایک عظیم اظہار تھا جسے اپنوں نے بھی دیکھا اور محسوس کیا اور غیروں نے بھی دیکھا۔27 مئی کا یہ دن جس میں خلافت احمدیہ کے 100 سال پورے ہوئے اپنوں اور غیروں کو اللہ تعالیٰ کی تائیدو نصرت کے نشان دکھا گیا۔وہاں بیٹھے ہوئے احمدی مرد اور خواتین اور بچے سب اس کیفیت میں تھے کہ جو بھی مجھے ملے اس نے یہی کہا کہ ہمارے ایمان اس تقریب نے تازہ کر دیئے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا باہر کی دنیا کے احمدیوں کا بھی یہی حال تھا۔ہر جگہ سے بے انتہاء خلافت سے محبت اور عقیدت اور اپنے ایمان میں مضبوطی کا اظہار ہو رہا ہے۔ایک صاحب نے لکھا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ میں آج نئے سرے سے احمدی ہوا ہوں۔کئی ایسے جو بعض شکوک میں مبتلا تھے گوانہوں نے بیعت تو کر لی تھی خلافت خامسہ کی لیکن ان کے دل اس بات پر راضی نہیں تھے انہوں نے لکھا کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے حضور استغفار بھی کی اور آپ سے بھی عہد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس تقریر کی برکت سے ہمارے دلوں کو صاف کیا ہے بلکہ کہنا چاہئے کہ دھو کر چپکا دیا ہے۔اس کے بعد ہم اب خلافت احمدیہ کے لئے ہر قربانی کے لئے بچے دل سے تیار رہیں گے اور اپنی نسلوں میں بھی وہ روح پھونکنے کی کوشش کریں گے جو ہمیشہ ان کو خلافت کے فیض سے فیضیاب ہونے والا رکھے۔ایک لکھنے والے نے لکھا کہ اگر مُردوں کو زندہ کرنے کا ذریعہ کوئی تقریب بن سکتی ہے تو وہ یہ تقریب اور آپ کا خطاب تھا۔خدا کرے کہ حقیقت میں ایک انقلاب اس تقریب سے دنیائے احمدیت پر آیا ہو اور وہ قائم بھی رہے۔ہما اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنتے ہوئے اپنے دلوں کی پاک تبدیلیوں کو ہمیشہ قائم رکھنے والے بنے رہیں۔اس وقت وہاں اردگرد کے ماحول میں ایکسیل (Excel) سنٹر کے مقامی لوگ بھی حیرت سے لوگوں کو جمع ہوتے اور ایک عجیب