خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 210 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 210

خطبات مسرور جلد ششم 210 (22) خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مئی 2008 فرمودہ مورخہ 30 رمئی 2008 ء بمطابق 30 رہجرت 1387 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اس ہفتے، چند دن پہلے ، 27 مئی کو ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے یوم خلافت منایا۔جیسا کہ میں اپنی تقریر میں بیان کر چکا ہوں اس سال کے یوم خلافت کی ایک خاص اہمیت تھی۔یہ ایسا یوم خلافت تھا جو عموماً ایک انسان کی زندگی میں ایک دفعہ ہی آتا ہے۔یا کسی کی بہت لمبی زندگی ہو تو اس کی شعور کی زندگی میں ایک دفعہ آتا ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا خاص ہی کسی پر احسان ہو اور وہ صحیح طرح پورے شعور کی زندگی میں ہو اور لمبی عمر کے ساتھ اس کے اعضاء بھی اس قابل ہوں اور مشتعل نہ ہوئے ہوں۔تو بہر حال یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں جماعت احمدیہ کی ، نہ صرف یہ جو بہت سارے ایسے احمدی ہیں ان کو خلافت جو بلی دکھائی بلکہ جماعت احمدیہ کی 120 سالہ تقریباً زندگی ہے اس پر تسلسل کے ساتھ جماعت کی دو مختلف جو بلیاں دیکھنے کا موقع فراہم فرمایا۔اور اس حوالے سے ہر احمدی اللہ تعالیٰ کے حضور شکر اور احسان کے جذبات سے لبریز ہے۔جماعت احمدیہ کی بنیاد کی پہلی صدی 1989 ء میں آج سے اُنیس (19) سال پہلے ہم نے منائی۔اس سال ہم نے جیسا کہ ہم سارے جانتے ہیں خلافت احمدیہ کے حوالے سے، اس کے قیام کے حوالے سے سو سالہ تقریب اظہار تشکر کے طور پر 27 رمئی کو منائی اور دنیا کی مختلف جماعتوں میں منا رہے ہیں۔اس وقت بہت سے بچے ایسے ہوں گے اور نئے آنے والے بھی جو 1989ء میں پیدا نہیں ہوئے ، اس کے بعد پیدا ہوئے یا شعور کی زندگی نہیں تھی یا بعد میں جماعت میں شامل ہوئے۔انہیں اس جو بلی کا تو پتہ نہیں لیکن یہ جو بلی جو ایسے لوگوں نے اپنے ہوش و حواس میں منائی یا دیکھی اس نے انہیں یقیناً ایک منفرد تجربہ سے گزارا ہوگا اور گزررہے ہوں گے اور گزرے ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں جہاں بھی جماعتیں قائم ہیں ہر ایک نے اپنے پروگرام بھی کئے اور کر رہے ہیں۔ایم ٹی اے کے ذریعہ سے مرکزی پروگرام میں بھی شامل ہوئے۔مقامی جماعتوں کے پروگرام اپنے اپنے حالات کے مطابق شاید سارا سال چلتے رہیں۔لیکن یہاں کا مرکزی پروگرام وہ تھا جب Excel سنٹر میں مرکزی جلسہ ہوا اور اس میں تقریباً 18-19 ہزار کی حاضری تھی اور دنیا کے