خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 205
خطبات مسرور جلد ششم 205 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 مئی 2008 ثبوت نہیں ہے؟ یہ کافی دلیل نہیں ہے؟ کہ آپ ہی اس زمانے میں خدا تعالیٰ کے بچے فرستادہ ہیں۔اللہ دُنیا کی آنکھیں کھولے اور وہ کسی تباہی کو آواز دینے کی بجائے جلد قبول کر نے والوں میں شامل ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے کہ اَصْلِحْ بَيْنِي وَبَيْنَ اخْوَتِی۔آپ فرماتے ہیں کہ: یہ الہام کہ اَصْلِحْ بَيْنِي وَبَيْنَ اِخْوَتِی اس کے یہ معنے ہیں کہ اے میرے خدا مجھ میں اور میرے بھائیوں میں اصلاح کر۔یہ الہام در حقیقت تتمہ اُن الہامات کا معلوم ہوتا ہے جن میں خدا تعالیٰ نے اُس مخالفت کا انجام بتلایا ہے۔وہ الہام ہے۔خَرُّوْا عَلَى الْاذْقَانِ سُجَّدًا۔رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَإِنْ كُنَّا لَخَاطِئِينَ۔لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَ آپ خود لکھتے ہیں کہ : یعنی بعض سخت مخالفوں کا یہ انجام ہوگا کہ وہ بعض نشان دیکھ کر خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ میں گریں گے کہ اے ہمارے خدا! ہمارے گناہ بخش۔ہم خطا پر تھے۔اور مجھے مخاطب کر کے کہیں گے ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مجھے مخاطب کر کے کہیں گے ) کہ بخدا !خدا نے ہم پر تجھے فضیلت دی اور تجھے چن لیا اور ہم غلطی پر تھے کہ تیری مخالفت کی۔اس کا جواب یہ ہوگا کہ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔خدا تمہیں بخش دے گا وہ ارحم الراحمین ہے۔یہ اُس وقت ہوگا کہ جب بڑے بڑے نشان ظاہر ہوں گے۔آخر سعید لوگوں کے دل کھل جائیں گے اور وہ دل میں کہیں گے کہ کیا کوئی سچا مسیح اس سے زیادہ نشان دکھلا سکتا ہے یا اس سے زیادہ اس کی نصرت اور تائید ہو سکتی تھی۔تب یک دفعہ غیب سے قبول کے لئے ان میں طاقت پیدا ہو جائے گی اور وہ حق کو قبول کر لیں گے۔( تذکرہ صفحہ 605۔ایڈیشن چہارم۔مطبوعہ ربوہ ) ہم تو یہی دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی کو بھی سخت نشان دکھانے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہچاننے کی عقل عطا فرمائے۔آپ کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ حق کو قبول کرنے والے بن جائیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدِ (ابراهیم : 16) اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے فتح مانگی اور ہر جابر دشمن ہلاک ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔” یہ سنت اللہ ہے کہ مامور من اللہ ستائے جاتے ہیں ، دکھ دیئے جاتے ہیں۔مشکل پر مشکل ان کے سامنے آتی ہے۔نہ اس لئے کہ وہ ہلاک ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ نصرت الہی کو جذب کریں۔یہی وجہ تھی کہ آپ کی ملکی زندگی مدنی زندگی کے بالمقابل دراز ہے۔یعنی لمبی ہے۔” چنانچہ مکہ میں تیرہ برس گزرے اور مدینہ میں دس برس۔جیسا کہ اس آیت سے پایا جاتا ہے ہر نبی اور مامور من اللہ کے ساتھ یہی حال ہوا ہے کہ اوائل میں دکھ دیا گیا ہے۔مکار، فریبی ، دکاندار اور کیا کیا کہا گیا ہے۔یہی کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کہا گیا اور کہا جاتا ہے۔کوئی