خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 204
خطبات مسرور جلد ششم 204 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 مئی 2008 پاکستان کے ایک بہت بڑے عالم جو جماعت کی مخالفت میں بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر اسرار احمد اُن کا نام ہے وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اصل اور محکم اساس گزشتہ چار سو سال کی تاریخ پر قائم ہے جو گواہی دیتی ہے کہ پچھلی چار صدیوں کے دوران میں تجدید دین کا سارا کام برعظیم پاک و ہند میں ہوا اور اس عرصے میں تمام مجددین اعظم اس خطہ میں پیدا ہوئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشیت ایزدی اور حکمت خداوندی کا کوئی طویل المیعاد منصوبہ اس خطہ کے ساتھ وابستہ ہے۔( مضمون ” پاکستان کا مستقبل، مطبوعہ نوائے وقت 1993-07-16) انہوں نے بات کھل کر تو نہیں کی لیکن اس بیان سے صاف واضح ہے کہ ان کے نزدیک بھی خاتم الخلفاء اور مسیح موعود اس خطہ میں آنے کے آثار نظر آتے ہیں۔اور یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت جب ایک دعویٰ کرنے والے نے دعوی کر دیا ہے۔آسمانی اور زمینی نشانات اس کی تائید میں کھڑے ہیں تو پھر آنکھیں بند کر کے اس کی مخالفت پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔اصل میں دنیا داری نے ان لوگوں کی آنکھوں پر پردے ڈالے ہوئے ہیں۔اصل میں یہ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے پڑھ لکھ کر گنوایا ہے۔بظاہر عالم ہیں لیکن خدائی اشاروں کو نہیں سمجھتے بلکہ دیکھنے کے باوجودا نکار کرتے ہیں۔اپنی آنکھوں سے یہ لوگ پر دے اٹھانا نہیں چاہتے۔یہ لوگ صُمٌّ بُكْمٌ عُنى (البقرة: 19) کے مصداق بنے ہوئے ہیں۔بہرے گونگے اور اندھے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بظا ہر علم کی روشنی دی ہے لیکن اس علم نے ان کو روشنی کا مینار بنانے کی بجائے مسیح موعود کی مخالفت کی وجہ سے بدترین مخلوق بنادیا ہوا ہے۔جیسا کہ اس زمانے کے بعض علماء کے بارہ میں حدیث بھی ہے۔پس اگر ان کے دل صاف ہیں، اگر واقعی امت مسلمہ کا درد رکھتے ہیں تو خالص ہو کر اللہ تعالیٰ سے اپنی اصلاح اور راہنمائی کی دعا مانگیں۔ورنہ یہ خود بھی یونہی بھٹکتے رہیں گے اور اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی بھٹکاتے رہیں گے اور کوئی مسیح ان کی مسیحائی کے لئے نہیں آئے گا۔ان کو ان پر یشانیوں سے نجات دلانے کے لئے نہیں آئے گا۔اللہ تعالیٰ قوم کی بھی اصلاح کرے اور یہ بچے اور جھوٹے کا فرق پہچان سکیں۔جیسا کہ میں نے کہا۔اللہ تعالیٰ کی تائیدات واضح طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ نظر آ رہی ہیں اور یہ خدا تعالیٰ نے پہلے ہی آپ کو بتا دیا تھا اور آپ کو فتح و کامیابی کی خوشخبری دی تھی اور بے شمار دفعہ دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی ایک خواب اور الہام کا ذکر کرتے ہوئے ( یہ 1893ء کا ہے ) فرماتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ اول گویا کوئی شخص مجھ کو کہتا ہے کہ میرا نام فتح اور ظفر ہے اور پھر یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے اَصْلَحَ اللهُ أَمْرِى كُلَّه ( ترجمه از مرتب) یعنی خدا تعالیٰ میرے تمام کام درست کر دے۔( تذکرہ صفحہ 202۔ایڈیشن چہارم۔مطبوعہ ربوہ ) کیا آپ کا یہ دعویٰ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فتح و ظفر کی نوید سنائی ہے اور آپ کی وفات کے 100 سال کے بعد تک بھی اللہ تعالیٰ کا آپ کی جماعت کے ساتھ یہ سلوک کہ ترقی کی طرف جو منزلیں طے ہو رہی ہیں ، اس بات کا کافی