خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 196
خطبات مسرور جلد ششم 196 خطبہ جمعہ فرموده 16 مئی 2008 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس کے جو معنی کئے ہیں وہ ہیں کہ ” بگڑے ہوئے کو بنانے والا “۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی جلسہ سالانہ کی ایک تقریر جس کا عنوان تقدیر الہی ہے اس میں خدا تعالیٰ کی ذات سے جبر کے بارے میں بعض لوگوں کے غلط نظریات بیان کرتے ہوئے جو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں بیان کرتے ہیں، اس صفت جبار کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " قرآن کریم سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ جبار ہے۔مگر اس کے معنی اصلاح کرنے والا ہیں اور یہ کہتے ہیں جبریہ ہے۔زبردستی کام کراتا ہے۔حالانکہ یہ کسی صورت میں بھی درست نہیں ہے۔عربی میں جبر کے معنی ٹوٹی ہوئی ہڈی کو درست کرنے کے ہیں اور جب یہ لفظ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ بندوں کے خراب شدہ کا موں کو درست کرنے والا اور اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کے حق کو دبا کر اپنی عزت قائم کرنے والا۔لیکن یہ دوسرے معنی تب کئے جاتے ہیں جب بندوں کی نسبت استعمال ہو۔خدا تعالیٰ کی نسبت استعمال نہیں کئے جاتے اور نہ کئے جا سکتے ہیں کیونکہ سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہی ہے۔یہ کہا ہی نہیں جا سکتا کہ دوسروں کے حقوق کو تلف کر کے اپنی عزت قائم کرتا ہے۔( تقدیر الہی۔انوار العلوم جلد 4 صفحہ 459) یہ تقدیر الہی کا مسئلہ ہے، حقیقی عرفان تو یہ کتاب پڑھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔بہر حال اس لفظ کے تحت انہوں نے یہ وضاحت کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے ، بیان کردہ صفات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: وو الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ یعنی وہ خدا بادشاہ ہے جس پر کوئی داغ عیب نہیں۔یہ ظاہر ہے کہ انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں۔اگر مثلاً تمام رعیت جلا وطن ہو کر دوسرے ملک کی طرف بھاگ جاوے تو پھر بادشاہی قائم نہیں رہ سکتی۔یا اگر مثلاً تمام رعیت قحط زدہ ہو جائے تو پھر خراج شاہی کہاں سے آئے۔اور اگر رعیت کے لوگ اس سے بحث شروع کر دیں کہ تجھ میں ہم سے زیادہ کیا ہے تو وہ کون سی لیاقت اپنی ثابت کرے۔پس خدا تعالیٰ کی بادشاہی ایسی نہیں ہے۔وہ ایک دم میں تمام ملک کو فنا کر کے اور مخلوقات پیدا کر سکتا ہے۔اگر وہ ایسا خالق اور قادر نہ ہوتا تو پھر بر ظلم کے اس کی بادشاہت چل نہ سکتی۔کیونکہ وہ دنیا کو ایک مرتبہ معافی اور نجات دے کر پھر دوسری دنیا کہاں سے لاتا۔کیا نجات یافتہ لوگوں کو دنیا میں بھیجنے کے لئے پھر پکڑتا؟ اور ظلم کی راہ سے اپنی معافی اور نجات دہی کو واپس لیتا ؟ تو اس صورت میں اس کی خدائی میں فرق آتا اور دنیا کے بادشاہوں کی طرح داغدار بادشاہ ہوتا جو دنیا کے قانون بناتے ہیں۔بات بات پر بگڑتے ہیں اور اپنی خود غرضی کے وقتوں پر جب دیکھتے ہیں کہ ظلم کے بغیر چارہ نہیں تو ظلم کو شیر مادر