خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 195
خطبات مسرور جلد ششم 195 خطبہ جمعہ فرموده 16 مئی 2008 رحمت تمام پر حاوی ہے ، ہر چیز پر حاوی ہے۔اس کے تحت وہ مالک ہے۔جو چاہے سلوک کرتا ہے ، رحمت سے بخش بھی دیتا ہے۔بہر حال اس لغت میں آگے الْجَبَّارُ کے ایک معنی یہ لکھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے جس تک رسائی ممکن نہیں، جس تک انسان پہنچ نہیں سکتا۔پھر لکھا ہے الْجَبَّارُ مخلوق سے بلند مقام پر فائز ہستی کو جبار کہتے ہیں۔انسانوں کے معاملے میں لکھا ہے کہ وہ متکبر شخص جو اپنے ذمہ کسی شخص کا حق تسلیم نہ کرے، اسے بھی جبار کہتے ہیں۔لخيانی کہتے ہیں کہ جبار وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے تکبر کی راہ سے اعراض کرے۔عبادت نہ کرے اور اس میں تکبر پایا جاتا ہو۔قلب جَبَّار کا مطلب ہے ایسا دل جس میں رحم نہ ہو۔وہ دل جو تکبر کی وجہ سے نصیحت قبول نہ کرے۔رَجُلٌ جَبَّارٌ ، ہر ایسے شخص کو جَبَّار کہیں گے جوز بر دستی اپنی بات منوائے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ ( سورة ق : 46: یعنی تو ان پر مسلط نہیں ہے، تا انہیں زبر دستی اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور کرے۔پھر ہر اس جھگڑالو شخص کو جو ناحق لڑتا جھگڑتا ہے جبار کہتے ہیں۔الجبار عظیم، قوی اور طویل کو بھی کہتے ہیں۔امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ الْجَبَّارِ اُسے کہتے ہیں جو بلند سے بلند تر ہوتا چلا جائے اور اس کی عزت و شرف میں کمی نہ ہو۔حضرت خلیفہ المسح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف لغات سے جو معنی اخذ کئے ہیں، آپ لکھتے ہیں کہ الْجَبَّار اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور اس کے معنی لوگوں کی حاجات پوری کرنے والے کے ہوتے ہیں۔لیکن جب کسی غیر اللہ کے متعلق جبار کا لفظ استعمال ہو تو اس کے معنی سرکش اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کے ہوتے ہیں“۔( تفسير كبير جلد 7 تفسير سورة القصص آیت 20 صفحہ 485) پھر آپ لکھتے ہیں کہ جبار کے معنی ہوتے ہیں دوسروں کو نیچا کر کے اپنے آپ کو اونچا کرنے والا۔پھر ایک جگہ آپ نے لکھا ہے : ” جبار کا لفظ خدا تعالیٰ کی صفات میں ہے۔یعنی اصلاح کرنے والا۔۔اور ہر سرکشی کرنے والے اور بات نہ ماننے والے کو بھی (جبار ) کہتے ہیں“۔( تفسیر کبیر جلد 3 تفسیر سورة هود زیر آیت 60 صفحہ 210) پھر ایک جگہ آپ لکھتے ہیں کہ : ” جہاں اس کے معنی اصلاح کرنے کے ہیں وہاں کسی کی مرضی کے خلاف اس پر ظلم کر کے جبرا اس سے کام لینے کے بھی ہیں۔گویا ایک معنی ایسے ہیں جن میں نیکی اور اصلاح پائی جاتی ہے اور ایک معنی ایسے ہیں جن میں سختی اور ظلم پایا جاتا ہے“۔( تفسیر کبیر جلد 5 تفسیر سورۂ مریم زیر آیت 15 صفحہ 148)