خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 178

178 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمود : 2 مئی 2008 نمازیں جن کے دل حقیقت سے غافل ہوں ان کی نمازیں برائیوں سے روکنے کی بجائے ان کے لئے ہلاکت کا سامان بن جاتی ہیں۔پس ہمیشہ یادرکھیں ہم جو اس زمانے کے امام کو مان کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دوسروں سے بہتر ہیں تو صرف یہ دعوی کافی نہیں۔ہمیں اپنے اندر روحانی انقلاب پیدا کرنا ہو گا۔وہ نمازیں پڑھنی ہوں گی جو ہر قسم کی برائیوں سے روک رہی ہوں۔وہ نمازیں پڑھنی ہوں گی جو نیک عمل کرنے کی طرف آگے بڑھانے والی ہوں۔اگر ہمارا نمازیں پڑھنا ہماری زندگیوں میں انقلاب نہیں لا رہا تو بڑے فکر کی ضرورت ہے۔پس ایک احمدی مسلمان مومن کا فرض ہے کہ سب سے پہلے اپنی نمازوں کی حفاظت کریں۔اپنی نمازوں کو اپنے اندر دوسری اخلاقی تبدیلیوں کا پیمانہ بنائیں۔یا اپنے اعلیٰ اخلاق کو اپنی نمازوں کی قبولیت کا پیمانہ مجھیں۔اگر ہمارے اخلاق اعلیٰ نہیں ہور ہے، اگر ہم اس زمانے کی بُرائیوں سے بچنے کی کوشش نہیں کر رہے تو ہم مجاہدہ نہیں کر رہے، ہم اپنی نمازوں کی حفاظت نہیں کر رہے۔پس ہر احمدی کو ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ پاک تبدیلی پیدا کرنے کے لئے جو مجاہدہ کرنا ہے اس میں سب سے پہلے خالص ہو کر خدا تعالیٰ کی عبادت اور نمازوں کی ادائیگی ہے۔دعاؤں اور ذکر الہی کی طرف توجہ ہے۔پھراپنی توفیق کے مطابق صدقہ و خیرات کرنا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ صدقہ و خیرات بھی بلاؤں کو دور کرتا ہے۔آج اس زمانے میں دنیا داری، اخلاقی گراوٹ ، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال نہ رکھنا اللہ تعالیٰ کی حقیقی عبادت سے غافل رہنا ان سے بڑی اور کون سی بلا ہوگی جو ہماری زندگیوں کو تباہ کر رہی ہے۔پس جس کو جتنی توفیق ہے صدقہ و خیرات کرے اور دکھاوے کے لئے نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کرے۔جو کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کیا جائے وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ پانے والا ہوتا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نیتوں کے مطابق انسان سے سلوک کرتا ہے اور جو عمل نیک نیت سے ہو وہ یقینا پاک تبدیلیوں میں بڑھاتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ نفس کی تبدیلی کے لئے ہر قسم کے حیلے اور کوشش کی ضرورت ہے۔ان تمام قسم کے اخلاق کو اپنانے کی ضرورت ہے جن کا ذکر فرمایا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے سے نرمی اور حسن اخلاق سے بات کرو اور حسن اخلاق کا سلوک کرو۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی امانتوں کی حفاظت کرو۔ہر عہد یدار کے پاس کوئی بھی جماعتی کام ایک امانت ہے اسے ایمانداری سے ادا کرنا ضروری ہے۔ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالی خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور جو اللہ تعالیٰ کی پسند سے باہر نکل جائے نہ اس کا دین رہتا ہے اور نہ اس کی دنیا رہتی ہے۔بعض دفعہ انسان عارضی نفسانی خواہشات کی خاطر امانت کا حق ادانہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آسکتا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا اللہ تعالیٰ ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا