خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 173
173 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اپریل 2008 کے استعمال کے سوا اور کچھ نہیں کر رہے ہوتے۔دنیا میں کئی مسجدوں میں جماعت کو بھی گالیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔پھر مسجدوں میں بعض دفعہ خود اپنے اندر سے ہی دو گروہ لڑ پڑتے ہیں اور اس حد تک آگے نکل جاتے ہیں کہ حکومت کو دخل اندازی کر کے مسجدوں کو تالے لگانے پڑتے ہیں۔تو کیا ایسی مسجدیں ثواب کا ذریعہ بن رہی ہیں؟ ایسے لوگ تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔پس مسجد بنانا اور اس کو خوبصورت بنانا کوئی ایسی بات نہیں جس پر بہت زیادہ خوش ہوا جائے۔اگر حقیقی خوشی حاصل کرنی ہے تو اس صورت میں ممکن ہے جب خوبصورت دل رکھنے والے اور نیک نیست، پیار اور محبت پھیلانے والے اور خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نمازی پیدا کئے جائیں۔ہمیشہ یاد رکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد بندے کو خدا تعالیٰ کے قریب کرنا ہے۔آپس میں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔اگر ہم اس مقصد کے حصول کی کوشش نہیں کر رہے تو ہمارا احمدی کہلانا بے مقصد ہے۔میں نے کل جلسے پر بھی بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو وہی پیارا ہے جو تقوی میں ترقی کرنے والا ہے۔اور تقویٰ میں ترقی کے لئے اس نے ہمیں جو راستے سکھائے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسی طرح اس کے دوسرے حقوق کی ادائیگی بھی ہے اور اس کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی بھی ہے۔پس ہم احمدیوں کو ہمیشہ ان حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ رکھنی چاہئے۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر کس قدر احسان ہے کہ اس نے زمانہ کے امام کو ماننے کی ہمیں توفیق عطا فرمائی۔دنیا جب آپس میں فساد میں مبتلا ہے ہمیں ایک جماعت میں پرویا ہوا ہے۔پس اس احسان کا شکر گزار ہوتے ہوئے اپنی عبادتوں کے معیار کو بلند کرنا ہمارا فرض ہے۔آپس میں پیار اور محبت اور بھائی چارے کو پہلے سے بڑھا کر تعلق کا اظہار کرنا ہمارا فرض ہے۔اپنے دلوں کو ایک دوسرے کے لئے بالکل پاک صاف کرنا ہمارا فرض ہے۔نئے بیعت کرنے والے، نو مبائعین کو اپنے اندر پیار و محبت سے جذب کرنا ہمارا فرض ہے۔اگر ہم یہ تمام باتیں نہیں کر رہے تو یہ بڑی بدقسمتی ہوگی۔پس ہر ایک احمدی کو اس کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے ، بلکہ یہ بات پلے باندھنی چاہئے کہ ہم اس نبی کے کے ماننے والے ہیں جس کا اوڑھنا، بچھونا، سونا، جاگنا، مرنا، جینا سب اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے تھا۔ہم بھی اُس وقت حقیقی مومن کہلائیں گے یا کہلانے والے بن سکیں گے جب ہم اس اُسوہ کو اپنائیں گے۔جب ہمارا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوگا اور جب یہ ہوگا تو ہماری عبادتیں بھی قبول ہوں گی اور ہمارے دوسرے اعما ل بھی قبول ہوں گے۔ہمارے اندر بھی پر امن فضا ر ہے گی اور ہم دوسروں کو بھی حقیقی امن اور حقیقی اسلام کا پیغام