خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 172

172 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اپریل 2008 ہو کہ میں نے فلاں کے ساتھ کھڑے ہونا ہے یا فلاں کے ساتھ کھڑے نہیں ہونا یا فلاں شخص نے ابھی بیعت کی ہے اس کا مقام مجھ سے کم تر ہے تو باوجود اس کے کہ مسجد میں عبادت کے لئے آتے ہیں اس ثواب کے مستحق نہیں ہو سکتے۔جہاں آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ مسجد میں نماز کا ثواب 27 گنا ہے ، وہاں یہ بات بھی آنحضرت ﷺ نے فرمائی ك إِنَّمَا الْاعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کہ ہر عمل کا ثواب اس کی نیت پر ہے۔اگر نیت نیک نہ ہو تو باوجود بظاہر نیک عمل کے اللہ تعالیٰ ثواب روک بھی لیتا ہے۔پس ہر فعل کا ثواب اس صورت میں ہے جب نیتیں نیک ہوں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی فرمایا کہ فَوَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ یعنی ایسے نماز پڑھنے والوں پر ہلاکت ہو۔یہ ہلاکت اس لئے ہے کہ نماز کے اصل مقصد کو بھول جاتے ہیں، ان کی نیتوں میں کھوٹ ہوتا ہے۔ایک دوسرے کے لئے نیک جذبات نہیں ہوتے۔دنیا داری کے خیالات دماغ میں پھرتے رہتے ہیں۔پس نمازوں سے فیض پانے کے لئے اپنے خیالات کو پاک کرنا بھی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس نماز میں دل کہیں ہے اور خیال کسی طرف ہے اور منہ سے کچھ نکلتا ہے وہ ایک لعنت ہے جو آدمی کے منہ پر واپس ماری جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی۔آپ نے فرمایا نماز وہی اچھی ہے جس میں مزا آتا ہے۔ایسی ہی نماز کے ذریعہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ نماز ہے جس کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے، نماز ہر مومن کے واسطے ترقی کا ذریعہ ہے۔پس ایسی نمازیں ہیں جو ہمیں پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ایسی نمازیں پڑھنے کی نیت سے ہمیں مسجد میں آنا چاہئے۔ہمیشہ یادرکھیں کہ ہماری ذاتی ترقی بھی اور جماعتی ترقی بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ہونی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ، اپنے مقصد پیدائش کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔خاص طور پر مسجدوں میں اس بات کا خیال رکھیں کہ ہم نے کوئی دنیاداری کی بات یہاں نہیں کرنی۔اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنی ہے۔مسجد میں آتے وقت جب یہ صورت ہوگی اور جب ہر شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مسجد میں آ رہا ہوگا تو دوسرے کے متعلق اگر کوئی دل میں برا خیال بھی ہے تو وہ اسے جھٹکنے کی کوشش کرے گا اور ان نمازوں اور عبادتوں کی برکت سے مسجد سے باہر بھی پیار، محبت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے والی باتوں کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔دلوں کی ناراضگیوں اور کینوں سے نجات مل جائے گی۔پس یہ مسجدیں بنانے کا فائدہ بھی ہے جب اس نیت سے مسجد بنائی جائے اور اس نیت سے مسجد میں عبادت کے لئے جایا جائے کہ ہم نے اپنے دلوں کو خدا تعالیٰ کی خاطر پاک صاف رکھنا ہے۔ورنہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بے شمار مسجد میں ہیں۔کئی مسجد میں ہیں جن میں خطبوں میں خطیب ایک دوسرے فرقہ پر گالیوں اور نہایت گندے الفاظ