خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 167
167 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اپریل 2008 خطبات مسرور جلد ششم کے ساتھ ، عبادت میں اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کے ساتھ تمہارے پر یہ بھی فرض ہے کہ مالی قربانی بھی کرو۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانیوں میں گھانا کی جماعت بڑی تیزی سے قدم آگے بڑھارہی ہے۔یاد دہانی کی ضرورت تو پڑتی رہتی ہے اور جب بھی یاد دہانی کروائی گئی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھار د عمل ہوا۔لیکن نو جوانوں اور نئے آنے والے نو مبائعین کو ان کی تربیت کے لئے میں بتانا چاہتا ہوں کہ جماعت میں مالی قربانی کا نظام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے نفس کی اصلاح کے لئے ہے۔قرآن کریم میں زکوۃ کے علاوہ بھی مالی قربانی کا ذکر ہے تا کہ اصلاح نفس ہو سکے۔خدا تعالیٰ کی خاطر وہی قربانی دے سکتا ہے جس کو خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی کوئی نیکی ، اس کا کوئی عمل جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کیا جائے ضائع نہیں کرتا۔میں اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر ادا کرتا ہوں اور آپ کو بھی کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمد یہ گھانا کو یہ تو فیق عطا فرمائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مالی قربانی کرتی ہے۔بعض مخلص اور صاحب حیثیت احمدیوں نے بڑی بڑی مساجد تعمیر کی ہیں۔ایک دنیا دار تو جب اس کے پاس دولت آ جائے اپنے مکان بنانے یا فضولیات میں رقم خرچ کرنے کی طرف توجہ کرتا ہے۔لیکن آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے قادیان سے ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے ایسے مخلصین عطا کئے ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی خاطر مالی قربانی کرنے کے لئے کھولا ہے۔پس نئے شامل ہونے والے نو بائعین بھی اور نو جوان بھی ہمیشہ یادرکھیں کہ مالی قربانی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے ایک حکم ہے اور خلافت کے انعام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسے خاص طور پر بیان فرمایا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم اللہ تعالیٰ کے رحم کے مستحق ٹھہر و۔رسول کا حکم وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ اَطِیعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ کہہ کر ذکر فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ پاک معاشرے کے قیام کے لئے میری عبادت کے بعد ان تمام باتوں پر عمل کرو جو میں نے تمہیں قرآن کریم میں بیان کی ہیں۔پھر أَطِيعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ میں یہ بات بھی ہے کہ جو سیح و مہدی آنے والا ہے وہ آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی شریعت پر حقیقی رنگ میں عمل کرنے اور کروانے والا ہوگا۔وہ جگم اور عدل ہوگا۔وہ جن باتوں کا تمہیں حکم دے وہ یقیناً عدل پر قائم رہتے ہوئے حکم دے گا۔اس کا حکم یقیناً حکمت لئے ہوئے ہوگا۔اس لئے اُس کی باتوں کو سرسری نظر سے نہ دیکھنا۔اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جن کو کھول کر ہمیں بیان فرمایا ان میں سے اس وقت میں ایک کے حوالے سے بات کروں گا اور وہ بات ہے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے حوالے سے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اس بات پہ خاص طور پر توجہ دلائی ہے کہ احمدی لڑکیاں احمدی لڑکوں سے شادی کریں تا کہ آئندہ نسلیں احمدیت پر قائم رہیں۔جب بچوں کے دو کشتیوں میں پاؤں ہوں تو بچے کو سمجھ نہیں